سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 342 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 342

342 ملائیت نے سر اٹھانا شروع کیا تو افضل پر کئی ابتلاء کے دور آئے اور کئی قسم کی پابندیاں لگنی شروع ہوئیں یہاں تک کہ جنرل ضیاء صاحب کے آمرانہ دور میں توحتی المقدور افضل کی آواز کو دبانے اور الفضل کی آزادی پر قدغن لگانے کی ہر مذموم سعی کی گئی حتی کہ ایک لمبا تکلیف دہ دور ایسا بھی آیا جب یہ اخبار مسلسل بند رہا۔اور پاکستانی جماعت خصوصیت کے ساتھ مرکزی خبروں کے اس اہم رشتے سے کٹ جانے سے بے چین اور بے قرار رہی۔تربیتی لحاظ سے بھی خصوصاً چھوٹی جماعتوں میں اس کا منفی اثر ظاہر ہونا شروع ہوا لیکن جماعت احمدیہ نے بالآخر قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ الفضل کے اجراء کا حق بحال کرالیا۔اللہ تعالیٰ اس وقت کی عدلیہ کو جزائے خیر دے جنہوں نے جماعت احمدیہ کے معاملہ میں انصاف کا جھنڈا بلند کرنے کی جرات دکھائی۔اس از سر نو اجراء کے باوجود وہ مستقل پابندیاں جو ضیاء الحق کے آمرانہ آرڈنینس کے ذریعہ جماعت پر قائم کی گئیں ان پابندیوں سے افضل اور جماعت کے دیگر جرائد و رسائل کو جو مستقل زخم لگائے گئے تھے وہ اسی طرح ہرے رہے اور رستے رہے۔چنانچہ آج بھی آپ جگہ جگہ الفضل کی عبارتوں اور جملوں میں جو خلا د یکھتے ہیں یا بریکٹوں میں بعض غائب عبارتوں کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے یہ سب انہی زخموں کے رستے ہوئے ناسور ہیں۔جماعت احمد یہ عالمگیر اپنے بہت ہی محبوب روز نامہ کے ساتھ یہ بدسلوکی ہوتے دیکھ کر ہمیشہ کرب محسوس کرتی رہی اور یہ خیال بار بار ا بھرتا رہا کہ کیوں نہ الفضل کا ایک عالمگیر متبادل جاری کیا جائے۔اس خیال کو اس وجہ سے بھی مزید تقویت پہنچی کہ محض الفضل کی آزادی تحریر پر ہی پابندی نہیں تھی بلکہ اشاعت کی راہ میں ازراہ شرارت بار بار روکیں ڈالی جاتی رہیں۔چنانچہ جس طرح بے باک حق گو ہفتہ وار لا ہور کے ساتھ مستقلاًیہ سلوک جاری رہا کہ نامعلوم بے چہرہ اداروں کی طرف سے ڈاک خانوں سے بنڈل کے بنڈل غائب کر دئیے جاتے تھے اور اب بھی کم و بیش یہ سلسلہ جاری ہے ویسا ہی کچھ معاملہ الفضل