سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 286 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 286

286 فرمارہا تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے پاکستان سے ہجرت کے بعد اشاعت لٹریچر کے خلیفة المسح سلسلہ میں ہونے والے اس وسیع کام کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے غیر معمولی احسان اور انعام کے طور پر پیش کرتے ہوئے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم دسمبر 1989ء میں فرمایا: پاکستان سے انگلستان کی طرف عارضی ہجرت کرنے کے بعض فوائد ایسے تھے جو رفتہ رفتہ روشن ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت واضح ہوتی چلی گئی۔ان بہت سے فوائد میں سے جو خدا کی تقدیر کے مطابق ہمیں لازماً اس طرح عطا ہونے تھے جیسے بچے کو دوا دی جاتی ہے اور اس کی شفا کے لئے اور اس کی زندگی کے لئے ، اس کی بقا کے لئے وہ دوا ضروری ہوا کرتی ہے خواہ کیسی ہی کڑوی کیوں نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس طرح ہمیں رحمتیں گھوٹ گھوٹ کر پلائیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعض خدمت کے ایسے میدان نظر کے سامنے ابھرے جن کی طرف پہلے کوئی توجہ نہیں تھی۔مثلاً ایک لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود مشرقی دُنیا جو اشترا کی دُنیا کہلاتی ہے یعنی مشرق کا وہ حصہ جو اشتراکیت کے قبضہ میں ہے، اس میں بسنے والے اربوں انسانوں کے لئے ہم نے کوئی تیاری نہ کی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما یہ خوشخبری عطا فرمائی تھی کہ میں تجھے روس میں اس کثرت سے مسلمان عطا کروں گا کہ آپ نے اس نظارے کو یوں بیان فرمایا جیسے ریت کے ذرے ہوں اور اس کے علاوہ روس کا عصا آپ کے ہاتھوں میں تھمایا گیا جو رویا میں یوں معلوم ہوا جیسے اس کے اندر دو نالی بندوق ہوتی ہے۔یعنی عصا ایسا جود در مار ہو اور دور اثر ہو۔جب تک انگلستان آنے کی تقدیر یا انگلستان لائے جانے کی تقدیر ظاہر نہیں ہوئی ان امور پر ان معنوں میں تو نظر تھی کہ یہ خدا کی طرف سے عطا کردہ خوشخبریاں تھیں اور ہر احمدی کا دل مطمئن تھا کہ یقیناً یہ پوری ہوں گی۔لیکن کیسے ہوں گی؟ اور انہیں پورا کرنے کے لئے مومن کو جو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے وہ ہم کیسے ادا کریں گے؟ ان چیزوں پر نظر نہیں تھی۔نہ ان حالات میں ہوسکتی تھی۔یہاں آنے کے بعد سب سے پہلے کاموں میں سے ایک یہ کام کرنے کی توفیق ملی کہ اشترا کی مشرقی دُنیا میں جتنے ممالک ہیں ان کی زبانوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے چھوٹے چھوٹے رسالے اور کتابیں تیار ہونا