سلسلہ احمدیہ — Page 287
287 شروع ہوئیں۔اور قرآن کریم کے بعض مکمل ترجمے ان زبانوں میں کرنے کی توفیق ملی۔اور بعض زبانوں میں اقتباسات شائع کرنے کی توفیق ملی۔اسی طرح احادیث نبویہ میں سے منتخب احادیث جو ہم نے سوچا کہ اس زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اور انسان کی ضرورتوں کے لحاظ سے پیاس بجھانے کے لئے اہمیت رکھتی ہیں ان کا ترجمہ کرنے کی اور ان کی اشاعت کی توفیق ملی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے اقتباسات جو قرآن کریم کی آیات اور احادیث کے مضمون سے مطابقت رکھتے تھے اور انہیں کی تفسیر تھے ان کو اس نقطہ نگاہ سے چلنے کی توفیق ملی کہ ایک پڑھنے والا جب قرآن کریم کے مضامین سے گزر کر احادیث کے مضامین سے ہوتا ہوا حضرت مسیح موعود کے اقتباسات تک پہنچتا ہے تو اسے پہلی دونوں تحریروں کا زیادہ لطف آنے لگے اور اس کا ذہن زیادہ عمدگی کے ساتھ ان کے مطالب کو پاسکے اور اس کے اندر یہ احساس قوی تر ہوتا چلا جائے کہ قرآن کریم کی تفسیر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے کلام میں ہے۔تو اس طرح ان کے درمیان ایک تطبیق پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔کسی حد تک اس کی توفیق ملی۔اور پھر ان کے تراجم کئے گئے اور کتابیں اشاعت کے لئے تیار ہوئیں۔یہ سب کچھ ہورہا تھا لیکن کچھ علم نہیں تھا کہ ان کتابوں کو ، اس لٹریچر کو ان ملکوں تک پہنچانے کے سامان کیسے میسر آئیں گے۔صرف یہی نہیں اور بھی بہت سے مضامین پر رسالے شائع کئے گئے، تراجم تیار کئے گئے اور ان کی طباعت کروائی گئی۔آپ شاید ہی اندازہ کر سکیں کہ یہ کام کتنا مشکل تھا اور کتنا ذمہ داری کا کام تھا۔کیونکہ صحیح آدمی کی تلاش کرنا اور اس سے رابطہ کرنا اور اس کو تیار کرنا کہ ان کتب کا ترجمہ کرے یا ان رسائل کا ترجمہ کرے اور پھر یہ نگاہ رکھنا کہ وہ ترجمہ درست اور اصل کے مطابق ہے جب کہ ہم خود ان زبانوں سے نابلد ہیں۔اس کے لئے متبادل ماہرین کی تلاش کرنا، ایسے جن میں سے بہتوں کی عربی پر بھی نظر ہو اور اسلام کی اصطلاحات سے بھی واقف ہوں۔یہ ایک بہت ہی وسیع کام تھا۔لیکن اللہ تعالی نے آغاز ہی سے اس کو آسان فرمانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔بندوں کے ہا تھ حرکت تو کرتے ہیں مگر خدا کے ہاتھوں میں بندوں کے قدم آگے تو اٹھتے ہیں لیکن خدا کی طاقت