سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 261 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 261

261 تحریک اپنے عروج کو پہنچی تھی اس تحریک میں مسلمانوں کو جب تک ہندو بنا نہیں لیا جاتا تھا اور وہ اقرار نہیں کرتے تھے کہ ہم ہندو ہو گئے اس وقت تک ان کی مسجدوں کی شکل نہیں بدلائی جاتی تھی۔ان سے ان کے مسلمان ہونے کے حقوق چھینے نہیں جاتے تھے۔ان کی کتب مقدسہ کی بے حرمتی نہیں کی جاتی تھی۔ان سے قرآن چھین چھین کر ان کو گلیوں میں نہیں پھینکا جاتا تھا۔ان کی مساجد مسمار نہیں کی جاتی تھیں۔ان کو اس حق سے محروم نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ اللہ کا نام لیں اور خدا کی تو حید کے گن گائیں۔ان کو زبر دستی آنحضرت ص کے انکار پر اس طرح مجبور نہیں کیا جاتا تھا کہ اگر انکار نہیں کرو گے تو تمہیں گلیوں میں گھسیٹا جائے گا اور مارا جائے گا اور قید خانوں میں پہنچایا جائے گا۔پس پاکستان میں چلائی جانے والی وہابی علماء کی شدھی کی تحریک ان تمام نقوش میں، ان تمام تفاصیل میں، ہندوؤں کی چلائی جانے والی اس تحریک سے بھی زیادہ بھیانک ہے اور آج کی چلائی جانے والی تحریک سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔“ آپ نے فرمایا: یہ بھی ایک تحریک ہے جو شدھی کی جس کا مقابلہ ہم بڑی کامیابی سے کر رہے ہیں۔لیکن اگر ہندوستان کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اتنے خوفناک حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے جماعت اس طرح پھنس چکی ہے کہ وہ ہماری تحریک کو نظر انداز کر دے گی تو اس خواب و خیال کی دنیا سے باہر آجائیں۔کسی قیمت پر بھی اسلام کے خلاف ہونے والے حملے کو جماعت احمد یہ ہر گز نظر انداز نہیں کر سکتی۔کہیں بھی یہ حملہ ہو گا، کہیں بھی اسلام کو بڑی آنکھ سے دیکھا جائے گا تو صف اول پر لڑنے کے لئے ہمیشہ جماعت احمدیہ کے خدام اور انصار اور ضرورت پڑی تو مستورات بھی سامنے آئیں گی۔اس لئے ہمیں ہندوستان میں شدھی کی تحریک کے خلاف جہاد کا ایک عام اعلان کر رہا ہوں۔“ ( خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ ابیح الرابع فرمودہ 22 اگست 1986ء - خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 563-567) چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہدایت کے تحت ہندوستان کی مختلف جماعتوں سے ملکانہ کے اس علاقہ ارتداد میں مبلغین و معلمین کے وفود پہنچے۔بعض خواتین نے بھی کچھ عرصہ وقف کر کے وہاں کام کیا۔ابتدا میں ہمارے ان وفود کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کو رہائش کے لیے جگہیں