سلسلہ احمدیہ — Page 210
210 (Kalaja سے ہوئی جو تعلیم کے سلسلہ میں وہاں قیام پذیر تھے۔محترم مولوی صاحب کی تبلیغ سے مکرم عثمان کلا یا صاحب خاندان سمیت حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے۔بعد میں جب البانی میں با قاعدہ احمد پیشن ہو قائم کرنے کی غرض سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مولوی محمد الدین صاحب کو 18 اپریل 1936ء کو قادیان سے البانیا کے پہلے مبلغ کے طور پر روانہ فرمایا تو یہ رابطے مزید مضبوط ہوئے۔تاریخ احمدیت جلد 7 میں ان کے البانیا میں مختصر قیام اور تبلیغی مسائی کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔صرف تین ماہ کے قیام کے بعد مخدوش ملکی حالات کی وجہ سے مولوی صاحب کو مجبوراً البانبیا چھوڑنا پڑا۔البتہ مکرم عثمان کلا یا صاحب خط و کتابت کے ذریعہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے ہدایات پاتے رہے، یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد البانیا میں کمیونسٹ حکومت کا قیام عمل میں آیا جس کے بعد ہر قسم کے رابطے ختم ہو گئے۔کمیونسٹ حکومت نے تدریجا ہر قسم کی مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں۔1990ء میں کمیونسٹ حکومت کے زوال تک البانیا کے باقی دنیا سے روابط منقطع تھے، جس کی وجہ سے احمدیت کے پیغام کی تشہیر بھی البانیا میں نہ ہوسکی۔بہر حال البانین زبان میں جماعتی لٹریچر کی اشاعت اور البانین قوم تک پیغام احمدیت پہنچانے کے لیے حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالی کے دور خلافت میں محترم محمد کریا خان صاحب کو یوگوسلاویہ بھیجا گیا۔جنہوں نے مارچ 1975ء سے جون 1982 ء تک کو سودا میں قیام کیا جہاں البانین آباد۔حالا ہیں۔بعد میں سیاسی حالات خراب ہونے کی وجہ سے انہیں مجبوراً واپس پاکستان جانا پڑا۔حضرت خلیفة اصبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر موصوف کو جماعت کی طرف سے قرآن کریم کے پہلے البانین ترجمہ کی توفیق ملی جو 1989ء میں صد سالہ جوبلی کے موقع پر شائع ہوا۔علاوہ ازیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کی کتب کے البانین تراجم کا آغاز ہوا۔اسی دوران سویڈن میں ایک البانین نو جوان مکرم Raif Dika صاحب بیعت کر کے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔کچھ عرصہ بعد ہی ان کے آبائی وطن البانیا میں تبلیغی کاوشوں کا با قاعدہ آغا ز ہوا۔اپریل