سلسلہ احمدیہ — Page 211
211 1994ء میں سویڈن سے محترم مشہود الحق صاحب امیر جماعت سویڈن کی قیادت میں پہلا جماعتی وفد البانیا پہنچا اور اس طرح سے Pogradec اور اردگرد کے علاقوں میں تبلیغی و تربیتی مساعی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ان مسائی میں مزید تیزی آئی تو سویڈن کے علاوہ، جرمنی اور برطانیہ سے واقفین عارضی نے بھی آنا شروع کر دیا۔1995ء میں محترم مشہور الحق صاحب امیر جماعت سویڈن، محترم آفتاب احمد خان صاحب امیر جماعت برطانیہ، محترم ہادی علی چوہدری صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن اور مکرم Raif Dika صاحب کے ذریعہ جماعت کی باقاعدہ رجسٹریشن عمل میں آئی۔اسی دوران تقریباً نصف صدی کے بعد مکرم عثمان کلا یا صاحب نے قادیان ( انڈیا ) ایک خط بھیجوایا جس پر صرف ”مرزا بشیر الدین محمود قادیان انڈیا ' درج تھا۔اس خط میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ جماعت ان سے رابطہ کرے۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کو اس کا علم ہوا تو آپ کی خصوصی ہدایت پر مکرم محمد زکریا خان صاحب پہلی مرتبہ 1995ء میں البانیا پہنچے اور مکرم عثمان کلا یا صاحب کو تلاش کیا اور اُن سے ملاقات کی۔موصوف کو اسی سال جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت کرنے کی بھی توفیق ملی۔چنانچہ جلسہ کے دوسرے روز حضور رحمہ اللہ نے اپنے بعد دوپہر کے خطاب کے دوران ان کا تعارف کرواتے ہوئے ایک تصویر بھی دکھائی جس میں پہلے مبلغ مولوی محمد دین صاحب ، مکرم عثمان کلا یا صاحب اور اُن کے بھتیجے ڈاکٹر Bajram Preza صاحب تھے۔بعد میں ازراہ شفقت حضور رحمہ اللہ نے مکرم عثمان کلا یا صاحب اور ڈاکٹر Bajram Preza صاحب کو جو جلسہ سالانہ برطانیہ میں تشریف لائے ہوئے تھے، اسٹیج پر بلایا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔اس موقع پر ایک البانین امام Shefki صاحب بھی موجود تھے۔1996ء میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے البانیا مشن کی ذمہ داری مکرم محمد زکریا خان صاحب کے سپرد کی اور حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر 1999ء میں ایک لمبی تگ ودو کے بعد دار الحکومت ترانا (Tirana) کے نواحی علاقہ میں 33976 مربع میٹر پر مشتمل ایک وسیع زمین خریدی گئی جس پر ایک