سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 208 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 208

208 ارد گرد خدا کے فضل سے تیزی سے رسوخ پھیل رہا ہے بلکہ ایک موقع پر جبکہ ہمارا یہاں سے وفد وہاں گفت وشنید کے لئے گیا راویل صاحب اس وفد میں شامل تھے تو وہاں کے وائس پریذیڈنٹ نے ٹیلیویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ احمدی عقیدہ ہمیں اس لحاظ سے قبول ہے کہ ہمارے لئے یہ جماعت بہتر ہے۔اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ کھلے ہاتھوں اور کشادہ سینے کے ساتھ اس جماعت کا استقبال کیا جائے۔چنانچہ خدا کے فضل سے اب وہاں ایک تائیدی رو چل پڑی ہے لیکن احمد بیت کو قبول کرنا ان قوموں کے لئے اتنا آسان نہیں جو 70 سال تک دہریت کے زہر سے مسموم رہے اور اس کے نتیجہ میں باوجود اس کے کہ خدا کے فضل سے اسلام سے تعلق ٹوٹا نہیں اور اسلامیت کا شعور ان کے دلوں میں قائم رہا لیکن عملاً اسلام کی تفاصیل سے کچھ آگاہی نہیں تھی اور بحیثیت Muslim Nation کے تو اسلام کے اندار ہے لیکن بحیثیت مذہب اسلام کے یہ عملاً اسلام سے باہر ہی رہے۔ان کو دوبارہ اسلام میں داخل کرنا اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور حقانیت کا یقین دلوں میں جاگزین کرنا محنت طلب ہے اور دعاؤں کا محتاج ہے اور اعجاز کا منتظر ہے۔اس لئے دعائیں کریں۔ہم جس حد تک محنت ہے کر رہے ہیں، دعائیں بھی کرتے ہیں۔ساری جماعت دعائیں کرے کہ اللہ تعالیٰ وہاں اعجازی نشان دکھائے کیونکہ در حقیقت روحانی انقلابات کے لئے دلائل سے بہت بڑھ کر اعجازی نشان کام آیا کرتے ہیں۔“ مکرم مرات محمد جان صاحب کو بطور صدر جماعت کا ذان تا تارستان رشیا کئی سال خدمت کی توفیق علی مکرم مرات صاحب اور ان کی فیملی نے 1992ء میں مکرم منیر الدین شمس صاحب کے دورہ کا ذان کے دوران بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔اس دورہ کے دوران تاتارستان میں جماعت کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا۔جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے مکرم مشہود احمد ظفر صاحب مبلغ سلسلہ کا تقرر رشیا کے ایک بڑے مسلم آبادی والے شہر کا ذان میں کیا گیا تھا۔مکرم مشہود احمد صاحب کو کا ذان مشن میں فروری 1993 ء سے ستمبر 2002 ء تک خدمت کی توفیق ملی۔