سلسلہ احمدیہ — Page 207
207 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی اجازت سے ماسکو کے بعد رشیا کے اس دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں 1997ء میں جماعت کا مشن ہاؤس خریدا گیا۔جہاں مکرم آغا سکئی خان صاحب 1997 ء تا 2000 ، خدمات دینیہ بجا لاتے رہے۔بعد ازاں 2001ء میں مکرم عطاء الرب چیمہ صاحب کی تقرری سینٹ پیٹرز برگ مشن میں کی گئی جہاں ان کو 2011 ء تک بطور مبلغ خدمات بجا لانے کی توفیق ملی۔ماسکو شہر کی جماعت میں 1993ء کی ابتدا سے ہی سعید روحوں نے بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہونا شروع کر دیا تھا۔تو ے (90) کی دہائی میں جن مختلف اقوام کے لوگوں نے بیعت کی توفیق پائی ان میں تاتار، ازبک، تاجک، آذربائیجانی، آرمینین، قازاخ، رشین ، پاکستانی، اسی طرح بعض یہودی و عیسائی مذہب کے لوگ بھی شامل ہیں۔اس طرح ماسکو اور رشیا کے دیگر شہروں مثلاً سینٹ پیٹرز برگ، کازان، ایوانووا (lvonovo) ، ولادیمیر، گورکی (GORKY) ، تویر (Tver) اور سمارا (Samara) وغیرہ میں پھیلے ہوئے افراد جماعت کی مجموعی تعداد 100 سے 150 کے درمیان ہو گئی تھی۔مکرم را نا خالد احمد صاحب کو فروری 1993ء تا یکم نومبر 2009 ، بطور مبلغ انچارج رشیا خدمت کی توفیق ملی۔تاتارستان جو رشیا کی ایک سٹیٹ ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ نے جلسہ سالانہ یو کے 1993ء کے موقع پر اپنے خطاب میں یہاں احمدیت کے نفوذ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تاتارستان [ TATARSTAN] میں جو برادرم را ویل کا اصل وطن ہے دو سال یا تین سال پہلے وہاں سے مرات محمد جان صاحب جلسہ UK میں تشریف لائے تھے اور یہ ثابت قدم رہے، وفادار ثابت ہوئے۔واپس جا کر انہوں نے رابطہ رکھا اور اپنے آپ کو احمدی قرار دیتے رہے۔ان کی بیٹی نے بھی بہت ہی اخلاص کے ساتھ جماعت کے ساتھ تعلق رکھا اور ایک دوسرے کے ایمان کو یہ تقویت دیتے رہے۔اب وہاں خدا کے فضل سے باقاعدہ مشن ہاؤس قائم ہو چکا ہے، جماعت قائم ہو چکی ہے اور