سلسلہ احمدیہ — Page 160
160 بھیجوایا جاتا رہا۔بعض انگولین لوگوں نے بھی زائر آکر احمدیت قبول کی اور اس طرح اس ملک میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔برونائی (BRUNEI) ریاست برونائی جنوب مشرقی ایشیا کے علاقہ میں جزیرہ بورنیو کے ساحلی علاقہ میں واقع ہے۔دار الحکومت Bandar Seri Begawan، سرکاری زبان ملائی، رقبہ 5,765 مربع کلومیٹر ہے۔آبادی کا دو تہائی حصہ مسلمان ہے۔اس کے علاوہ %13 بدھسٹ ، %10 عیسائی اور %07 آزاد خیال طبقہ ہے۔اپریل 1985ء میں انڈونیشیا سے مکرم حسن بصری صاحب اور مکرم محی الدین شاہ صاحب پر مشتمل مبلغین کے ایک وفد نے برونائی دار السلام کا تبلیغی دورہ کیا جہاں چند افراد جماعت موجود تھے۔اس دورہ میں انفرادی سطح پر مختلف افرادسے تبلیغی رابطہ کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسح الرائع نے جلسہ سالانہ یو کے 1987ء کے موقع پر دوسرے روز بعد دوپہر کے خطاب میں بتایا کہ کینیڈا میں ایک نوجوان برونائی سے اعلی تعلیم کے لئے گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کینیڈا میں احمدیت میں شمولیت کی اور بڑی تیزی سے اخلاص اور محبت میں ترقی کی رخصتیں گزارنے کے لئے جب وہ برونائی جارہے تھے تو انہوں نے خود اس خواہش کا اظہار کیا کہ رمضان کا مہینہ لندن میں وہ میرے قریب گزاریں اور عید کے بعد یہاں سے جائیں۔چنانچہ بڑے شوق سے ہم نے ان کو دعوت دی اور اس رمضان میں پورے روزے بھی رکھے، اعتکاف بھی بیٹھے اور روزانہ میرے ساتھ سیر پہ جاکے اعتکاف سے پہلے وہ مسائل کی گفتگو بھی کرتے رہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت تیار ہو کر یہاں سے وہ برونائی گئے ہیں۔۔۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ ان کو وہاں کامیابی نصیب ہوئی ہوگی۔“ (ماخوذ از خطاب بر موقع جلسہ سالانہ یو کے 1985ء 1987ء) بعد ازاں برونائی جماعت ملائشیا جماعت کے سپرد ہوتی اور ملائشیا سے مبلغین اور داعیان الی اللہ نے برونائی کے احمدی احباب سے رابطہ رکھا۔