سلسلہ احمدیہ — Page 159
159 ایک ماہ تک وہاں رہے۔اس دوران کئی افراد نے بیعت کی۔اس طرح موریطانیہ میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔1985ء کے دوران گیمبیا مشن کی مساعی سے موریطانیہ میں اکہتر افراد نے احمدیت قبول کی۔مارچ 1986ء میں مکرم داؤ د احمد حنیف صاحب امیر ومبلغ انچارج گیمبیا مشن مکرم حامد مبائی صاحب کے ہمراہ دورہ پر موریطانیہ تشریف لے گئے۔1987ء میں مزید بیعتیں ہوئیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں جماعت مسلسل ترقی پذیر ہے۔ری پبلک آف انگولا (REPUBLIC OF ANGOLA) افریقہ کے جنوب میں واقع ریپبلک آف انگولا کے جنوبی جانب نمیبیا، شمال کی جانب ڈیموکریٹک ریپبلک آف کونگو، مشرق کی جانب زیمبیا جبکہ مغرب میں بحر اوقیانوس واقع ہیں۔اس ملک کی سرکاری زبان پرتگیزی ہے۔1,246,700 مربع کلومیٹر پر محیط اس ملک کی آبادی 18۔5 ملین نفوس پر مشتمل ہے جس میں سے تقریبا 99 فیصد آبادی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے جبکہ ایک فیصد مسلمان اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے اس ملک میں آباد ہیں۔مکرم مولانا صدیق احمد منور صاحب لکھتے ہیں : " انگولا ایک کمیونسٹ ملک ہے جہاں مذہبی تبلیغ پر بہت پابندیاں ہیں جن میں اسلام کی تبلیغ پر بھی پابندی ہے۔جہاں تک خاکسار کی معلومات کا تعلق ہے انگولا میں احمدیت کا آغاز 1984ء میں ہوا۔انگولا کے سب سے پہلے احمدی کا نام Tahir Ahmad Miguel Domingo ہے۔انہوں نے 1983 میں احمدیہ مشن سپین کے ذریعہ اسلام قبول کیا اور 1984ء میں باقاعدہ بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔1986ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرائع سے ملاقات کے لئے انگلستان تشریف لے گئے۔حضور انور رحمہ اللہ کے ارشاد کے مطابق انگولا کی نگرانی زائر مشن کے سپرد ہوئی۔زائر سے انگولا مشن میں جماعت کا لٹریچر