سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 161 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 161

161 گنی بساؤ (GUINEA BISSAU) 1971ء میں گنی بساؤ کے ایک نوجوان مکرم محمد باہ صاحب گیمبیا گئے۔وہاں ان کو فرافینی شہر میں مکرم الحاجی ابراہیم چکنی صاحب مرحوم کے ذریعہ احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔1974ء میں مکرم محمد باہ صاحب واپس گنی بساؤ آگئے۔کچھ عرصہ کے بعد ان کا رابطہ جماعت سے کٹ گیا۔بعد ازاں ان کا رابطہ دوبارہ جماعت کے ساتھ 1993ء میں ہوا۔یہ وہ سال ہے جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے عالمی بیعت کی تحریک کا آغا ز فرمایا۔20 دسمبر 1983ء کو گیمبیا میں ہی گنی بساؤ کے ایک دوست مکرم عیسی فاقی صاحب نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔1985ء ، 1986ء اور 1987ء میں گیمبیا سے لوکل معلمین و داعیان الی اللہ کے وفود گنی بساؤ تبلیغی غرض سے جاتے رہے۔مارچ 1986ء میں گنی بساؤ سے دو افراد پر مشتمل ایک وفد گیمبیا کے جلسہ میں شامل ہوا جہاں انہیں بیعت کر کے میں شمولیت کی توفیق ملی۔1987 ء تک گنی بساؤ میں ہونے والی بیعتوں کی کل تعداد 25 رتھی۔گنی بساؤ میں محموص (Qumus) شہر میں جس کا اب نیا نام فریم (Farim) ہے سب سے پہلے جماعت کا قیام عمل میں آیا جو کہ دُوئی (Oio) ریجن میں واقع ہے۔1988ء میں جب حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ گیمبیا تشریف لائے تو گنی بساؤ سے ایک وفد کو گیمبیا جانے اور حضور انور رحمہ اللہ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔مکرم داؤد احمد حنیف صاحب امیر و مشنری انچارج گیمبیا نے 1987ء اور پھر 1992ء میں گنی بساؤ کا دورہ کیا۔آخر نومبر 1992ء میں آپ نے ایک وفد کے ساتھ گنی بساؤ کے صدر مملکت سے ملاقات کی۔اس وفد کو ملک کے اندرونی حصوں کا دورہ کرنے اور دعوت الی اللہ کرنے کی بھی توفیق ملی اور کچھ مزید بیعتیں بھی عطا ہوتیں۔اپریل 1993 ء میں جب حضرت خلیفہ اسمع الرابع رحمہ اللہ نے مالی بیعت کی تحریک کا اعلان