سلسلہ احمدیہ — Page 659
659 فرمایا:۔اور اسی تقریر میں حضور نے جاپانی معاشرے میں مذہب کے متعلق رویے کا ذکر کرتے ہوئے اس میدان میں ہمیں بڑی جدو جہد کرنی پڑے گی کیونکہ ان کے اندر یہ عادت پڑ گئی ہے کہ ایک ہی شخص کیتھولک کلب کا بھی ممبر ہے اور بدھ کلب کا بھی ممبر ہے اور مختلف مذاہب کے چرچ اور عبادت گاہوں کو وہ کلب سمجھتے ہیں اور وہاں جتنی کلمبیں ہیں وہ ان کے ممبر بن جاتے ہیں۔بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مذہب کی رسومات پر عمل کرتے ہیں اور جب وہی بڑا ہو کر مرتا ہے تو اسے دفنانے کے لئے دوسرے مذہب کی رسومات پر عمل کرتے ہیں۔۔۔۔تو ان کو اس صراط مستقیم پر لانا یعنی کلبوں سے نکال کر مذہب میں داخل کرنا۔چونکہ وہ لوگ مذاہب کو کلب سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مذاہب کی ذہنیت اور ان کا فلسفہ اور اس فلسفہ کے متعلق تقاریران کے نزدیک ایسی ہیں جیسی کسی کلب میں مختلف تقاریر ہوتی ہیں۔اس فلسفہ کو مغلوب کرنے کے لئے اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے کسی اور فلسفہ کی ضرورت نہیں اور نہ وہ ہمیں مفید ہوسکتی ہے۔شاید میں نے پچھلے سال بھی دوستوں کو متوجہ کیا تھا کہ وہاں جماعت کو ترقی حاصل کرنے کے لئے نشانِ آسمانی اور تائیدات سماوی کی ضرورت ہے۔اب ہمیں ایسے بے نفس انسان چاہئیں جن پر ایک نظر پڑنے سے اگلا دیکھنے والا انسان اثر قبول کئے بغیر نہ رہ سکے۔“ اکتوبر ۱۹۷۰ء میں جاپان کے شہر کیوتو میں مذاہب اور امن کے موضوع پر ایک کا نفرنس منعقد ہوئی۔اس موقع پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس کانفرنس میں قرآنِ کریم کی روشنی میں امن کے بنیادی اصولوں پر خطاب فرمایا۔کانفرنس میں مکرم عبدالحمید صاحب نے جماعت احمدیہ کی نمائندگی کی اور حقوق انسانی کی سب کمیٹی میں آپ نے حصہ لیا اور تقاریر کیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر میں اس کا نفرنس کے بارے میں ارشادفرمایا:۔وو۔۔۔جاپان میں ایک عالمگیر مذہبی کا نفرنس منعقد ہوئی ، اس میں جماعت احمد یہ کو بھی