سلسلہ احمدیہ — Page 551
551 ۱۵ ستمبر کی خنک رات تھی (جماعت احمدیہ کے خلاف آئینی ترمیم سے ستمبر کو منظور کی گئی تھی۔ناقل ) وزیر اعظم بھٹو نے فرائض منصبی نمٹانے کے بعد عبد الحفیظ پیرزادہ، رفیع رضا اور مجھے ڈنر کے لئے اپنی قیام گاہ پر روکا ہوا تھا۔وہ حسب معمول تھوڑ اسا بھنا ہوا قیمہ پلیٹ میں رکھے بیٹھے تھے۔بے تاثر چہرے کے ساتھ ہم تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے بولے۔یوم تشکر جس انداز میں منایا گیا، اس کا حکومت کو کیا فائدہ ہوا؟“ وہ احمدیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا حوالہ دے رہے تھے جس کی خوشی میں پاکستان بھر میں یوم تشکر منایا گیا تھا بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ آئین میں اس ترمیم کا جو کریڈٹ حکومت کو ملنا چاہئے تھاوہ انہیں نہیں ملا، ان کو شکایت تھی کہ۔۔۔۔۔۔” مولوی لوگ زبر دستی اس کا سہرا اپنے سر باندھ رہے ہیں جس کے لئے ہمیں لوگوں کو اصل صورت حال بتانا چاہئے۔“ لوگ اصل صورت حال جانتے ہیں جناب حفیظ نے اپنی روایتی اکٹر فوں کا مظاہرہ کیا۔” مولویوں کے کتنے آدمی اسمبلیوں میں ہیں؟ عوام انہیں خوب جانتے ہیں ، وہ ان کے کھوکھلے دعووں کے فریب میں نہیں آئیں گے۔میرے خیال میں حکومت کو پورا کریڈٹ ملا ہے۔” آپ کا کیا خیال ہے مولانا وزیر اعظم بھٹو نے نیم وا آنکھوں اور دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے سوال کیا۔۔۔۔جب انہوں نے مجھ سے میرا خیال پوچھا تو ان کے ذہن میں در حقیقت صرف کریڈٹ کی بات نہ تھی معاملہ حقیقتاً کچھ اور تھا۔ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا کر میں نے محتاط انداز میں بولنا شروع کیا۔یہ درست ہے کہ علماء اس کا سہرا اپنے سر باندھ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک مدت سے یہ ہم چلا رہے تھے۔ان کی طرف سے قربانیاں بھی دی گئیں لیکن فیصلہ تو بہر حال آپ کی حکومت نے کیا ہے۔اب جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں۔آپ انتخابات کے نقطہ نظر سے سوچ رہے ہیں۔۔۔اس اقدام سے مذہبی حلقوں میں آپ کی مقبولیت یقیناً بڑھی