سلسلہ احمدیہ — Page 550
550 نواب محمد احمد قصوری کا قتل ۱۰ اور ۱۱۔نومبر ۱۹۷۴ ء کی درمیانی رات کو احمد رضا قصوری صاحب اپنے والد نواب محمد احمد صاحب کے ہمراہ اپنی کار میں ایک شادی سے ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقعہ اپنے گھر واپس آ رہے تھے۔وہ کار کو ڈرائیو کر رہے تھے اور نواب محمد احمد صاحب ان کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ان کی والدہ اور ان کی بہن پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔جب وہ شاہ جمال۔شادمان کے چوک ( Round about) پر پہنچے تو ان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔احمد رضا قصوری صاحب کو تو کوئی گولی نہیں لگی لیکن ان کے والد گولیوں کی زد میں آگئے اور گاڑی کا فرش خون سے بھر گیا۔وہ اسی گاڑی کو لے کر یوسی ایچ ہسپتال پہنچے لیکن ان کے والد جانبر نہ ہو سکے۔ان کے سر پر ایک سے زیادہ گولیاں لگی تھیں۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس افسران جب ہسپتال پہنچے تو احمد رضا قصوری صاحب نے ایف آئی آر میں یہ درج کرانے پر اصرار کیا کہ میں اپوزیشن کا ممبر قومی اسمبلی ہوں اور مجھے وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں دھمکی دی تھی کہ میں اب تمہیں برداشت نہیں کر سکتا۔قصوری صاحب نے وزیر اعظم کا نام ایف آئی آر میں درج کرانے پر اصرار کیا۔بھٹو صاحب اس وقت اقتدار میں تھے تحقیقات بے نتیجہ رہیں اور احمد رضا قصوری صاحب ایک بار پھر بھٹو صاحب کی پارٹی میں شامل ہو گئے۔بلکہ ان کی تعریف میں خطوط بھی لکھتے رہے۔اور جب ۱۹۷۷ء کا الیکشن آیا تو وہ پی پی پی کے ٹکٹ کے لئے درخواست گزار بھی ہوئے مگر انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔انجام بلند ایوانوں کا بھٹو صاحب احمدیوں کے خلاف آئین میں ترمیم سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے یہ کوئی مفروضہ نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے جس کا اقرار خود ان کے قریبی رفقاء اور وہ وزراء جو اس کام میں ان کے ساتھ رہے تھے وہ بھی کرتے ہیں۔بھٹو صاحب کی کابینہ کے وزیر برائے اطلاعات اور نشریات کوثر نیازی صاحب تحریر کرتے ہیں:۔