سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 552 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 552

552 ہے۔لیکن انتخابات کے نتائج کبھی ان حلقوں میں مرتب نہیں ہوتے۔سیاسی فیصلہ ہمیشہ سوادِ 66 اعظم کا ہوتا ہے۔۔‘“۔۔۔۔۔۔۱۵ ستمبر کی اس رات جب بھٹو صاحب نے مجھ سے میرا خیال پوچھا تو میں نے اس وقت کی ملکی جذباتی فضا کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی انہیں پھر انتخابات کے انعقاد کا مشورہ دیا۔مسٹر بھٹو احمدی مسئلہ پر قومی اسمبلی کا فیصلہ کرانے کے بعد انتخابات کے نقطہ نظر ہی سے سوچ رہے تھے۔(۱) ہم اس مرحلہ پر ٹھہر کر جائزہ لیتے ہیں کہ ۱۹۷۴ء میں آئینی ترمیم کرنے کے بعد حکمران سیاستدان کسی نفسیات سے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔کچھ روز پہلے ہی آئین میں ایک انوکھی ترمیم کی گئی تھی۔جس کے نتیجہ میں اسمبلی نے بزعم خود یہ اختیار لے لیا تھا کہ وہ یہ تعین کرے کہ کس گروہ کا مذہب کیا ہو۔اس ترمیم کے نتیجہ میں بہت سے بھیانک مضمرات سامنے آسکتے تھے اور ملک میں تنگ نظری اور مذہبی تعصب کا ایک نیا باب کھل سکتا تھا۔مستقبل میں بہت سے آئینی اور قانونی مسائل سر اُٹھا سکتے تھے۔اور ایسا ہوا بھی اور یہ عمل اب تک جاری ہے۔انہی غلطیوں کی وجہ سے ملک ایک تاریک گڑھے میں گرتا جا رہا ہے۔ملک کا امن و امان برباد ہو چکا ہے۔لیکن اس وقت کے حکمرانوں کو اگر کوئی فکر لاحق تھی تو صرف یہ کہ ان کے ووٹوں پر کیا اثر پڑے گا۔اس نام نہاد کارنامے کا کریڈٹ کسے کتنامل رہا ہے۔یہ فیصلہ اچھا تھا کہ برا، اس بحث کو تو رہنے دیں لیکن اس کا ملک پر بھی تو کوئی اچھا برا اثر پڑنا تھا۔ان بالا ایوانوں میں یہ سوچنے کی زحمت کوئی نہیں کر رہا تھا۔اتنی دور کی کون سوچتا اور ملک کی فکر کس کو تھی۔یو نین کونسل کے امیدواروں کی طرح صرف یہ فکر کی جارہی تھی کہ او ہو کہیں مخالف اس کا سہرا اپنے سر نہ باندھ لے۔دور بینی کے دعووں کے باجود ان کی دور کی نظر کمزور ہو چکی تھی۔اور کوثر نیازی صاحب کو یہ تو یا درہ گیا کہ اس رات بھٹو صاحب کی پلیٹ میں بھنا ہوا قیمہ پڑا ہوا تھا لیکن یہ ذکر انہوں نے نہیں کیا کہ ان فسادات میں کتنی بے رحمی سے احمدیوں کو شہید کیا گیا تھا۔باپوں نے بیٹے کو شہید ہوتے دیکھا۔بے بس بیٹیوں نے باپوں کو ظلم کی بھینٹ چڑھتے دیکھا۔اور انہیں تنہا اپنے باپ کی لاش اُٹھانی پڑی۔ان کے گھروں اور دوکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔۔مریضوں کو دوائیاں بھی نہ مل سکیں۔معصوم بچے مر گئے تو تدفین بھی نہ ہونے دی۔سوشل اور اقتصادی بائیکاٹ کیا گیا۔لیکن یادر ہا تو