سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 39 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 39

39 قرآن کریم کے سیکھنے ، قرآن کریم کے نور سے منور ہونے ، قرآن کریم کی برکات سے مستفیض ہونے اور قرآن کریم کے فضلوں کا وارث بننے سے ہے۔اسی طرح قرآن کریم کے انوار کی اشاعت کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی بعض برکات ایسی بھی ہیں جن کا تعلق اشاعت قرآن سے ہے۔۔۔۔۔پس چونکہ وصیت کا یا نظام وصیت کا یا موصی صاحبان کا ، قرآن کریم کی تعلیم ، اس کے سیکھنے اور اس کے سکھانے سے ایک گہرا تعلق ہے۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم قرآن اور وقف عارضی کی تحریکوں کو موصی صاحبان کی تنظیم کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اور یہ سارے کام ان کے سپرد کئے جائیں۔اس لئے آج میں موصی صاحبان کی تنظیم کا۔خدا کے نام کے ساتھ اور اس کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے اجراء کرتا ہوں۔تمام ایسی جماعتوں میں جہاں موصی صاحبان پائے جاتے ہیں اُن کی ایک مجلس قائم ہونی چاہئے۔یہ مجلس باہمی مشورے کے ساتھ اپنے صدر کا انتخاب کرے۔منتخب صدر جماعتی نظام میں سیکریٹری وصایا ہوگا۔۔۔۔اور اس صدر کے ذمہ علاوہ وصیتیں کرانے کے یہ کام بھی ہوگا کہ وہ گاہے بگا ہے مرکز کی ہدایت کے مطابق وصیت کرنے والوں کے اجلاس بلائے۔اس اجلاس میں وہ ایک دوسرے کو ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں جو ایک موصی کی ذمہ داریاں ہیں۔یعنی اس شخص کی ذمہ داریاں جس کے متعلق اللہ تعالے کی بشارت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا کے سارے فضلوں اور اس کی ساری رحمتوں اور اس کی ساری نعمتوں کا وہ وارث ہے۔اور وہ صدر ان کو یاد دلاتا رہے کہ تمام خیر چونکہ قرآن میں ہی ہے اس لئے وہ قرآنِ کریم کے نور سے پورا حصہ لینے کی کوشش کریں اور ان کو بتایا جائے کہ قرآن کریم کے انوار کی اشاعت کرنا ہر موصی کا بحیثیت فرد اور اب موصیوں کی مجلس کا بحیثیت مجلس پہلا اور آخری فرض ہے۔(10) حضور نے اس خطبہ میں فرمایا کہ مجھے ہر سال وقف عارضی میں کم از کم پانچ ہزار واقفین چاہئیں ، اس کے بغیر ہم صحیح رنگ میں جماعت کی تربیت نہیں کر سکتے۔اور اس خطبہ کے آخر میں فرمایا: