سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 40 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 40

40 وو پس جیسا کہ نور اس نظارہ سے جسے میں نے ساری دنیا میں پھیلتے دیکھا ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی کامیاب اشاعت اور اسلام کے غلبہ کے متعلق قرآن کریم میں اور نبی کریم ﷺ کی وحی اور ارشادات میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں جو خوش خبریاں اور بشارتیں پائی جاتی ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔اس لئے میں پھر اپنے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر واجب ہے کہ ہر احمدی مرد اور ہر احمدی عورت ، ہر احمدی بچہ، ہر احمدی جوان اور ہر احمدی بوڑھا پہلے اپنے دل کو نور قرآن سے منور کرے۔قرآن سیکھے ، قرآن پڑھے اور قرآن کے معارف سے اپنا سینہ ودل بھرلے اور معمور کر لے۔ایک نور مجسم بن جائے۔قرآن کریم میں ایسا محو ہو جائے۔قرآنِ کریم میں ایسا گم ہو جائے۔قرآنِ کریم میں ایسا فنا ہو جائے کہ دیکھنے والوں کو اس کے وجود میں قرآن کریم کا ہی نور نظر آئے۔اور پھر ایک معلم اور استاد کی حیثیت سے تمام دنیا کے سینوں کو انوار قرآنی سے منور کرنے میں ہمہ تن مشغول ہو جائے۔اے خدا! تو اپنے فضل سے ایسا ہی کر کہ تیرے فضل کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔(۱۰) اللہ تعالیٰ کے فضل سے احباب جماعت نے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی تحریک پر لبیک کہا اور ۱۹۶۷۔۱۹۶۸ ء کے سال کے دوران پاکستان میں وقف عارضی کرنے والوں کی تعداد ۵۰۷۴ تک پہنچ گئی۔اور ان احباب نے ۳۳۰۲ وفود کی صورت میں ۱۰۱۴ جماعتوں میں جا کر مرکزی ہدایت کے مطابق تعلیم و تربیت کا کام کیا۔پاکستان کے اضلاع میں سے ضلع تھر پارکر کے سب سے زیادہ احباب نے وقف عارضی کی تحریک میں حصہ لیا۔بیرونِ پاکستان سے انگلستان ، تنزانیہ اور ماریشس میں اس تحریک کا خوشکن آغاز ہوا۔اس تحریک کے تحت وقف عارضی کرنے والوں نے جہاں مختلف جماعتوں میں جا کر تعلیم و تربیت کا کام کیا، وہاں انہیں خود اپنی اصلاح کا خدا داد موقع بھی میسر آیا۔(۱۱) ریکارڈ کے مطابق اب تک ۱۹۹۶ ء میں اس تحریک کے تحت وقف کرنے والے واقفین کی تعداد سب سے زیادہ تھی جو کہ ۶۷۰۰ سے تجاوز کرگئی تھی۔پھر ۲۰۰۳ء میں یہ تعداد کم ہوکر ۸۶۴ ہوگئی تھی۔اس پر حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ نے احباب کو اس تحریک کی طرف تو جہ دلائی۔اس کے نتیجے میں ۲۰۰۶ء میں یہ تعداد پانچ ہزار سے زائد رہی۔۲۰۰۸ء میں نظارت تعلیم القرآن کو چار ہزار