سلسلہ احمدیہ — Page 18
18 اظہار فرمایا تھا کہ بیرونِ پاکستان جماعتیں ۱۵ لاکھ روپے کے قریب رقوم جمع کرلیں گی مگر مناسب تحریک نہ ہونے کے باعث یہ ہدف حاصل نہ کیا جا سکا اور بیرونِ پاکستان کی وصولی آٹھ لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب رہی۔سب سے زیادہ انگلستان کی جماعت نے حصہ لیا۔اور لندن کے بچوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔دوسرے نمبر پر بھارت کی جماعت تھی۔اور ماریشس کی جماعت نے اپنے وعدے سے بڑھ کر ادا ئیگی کی۔افریقہ کی جماعتوں میں کینیا کی ادا ئیگی سب سے زیادہ تھی۔بعد میں اس تحریک میں موصول کردہ چندے کی کل رقوم اس جائیداد کو شامل کر کے جو کہ پیش کی گئی تھی ساڑھے سینتیس لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے ابتدائی وسائل کا جمع ہو جانا ،خلافت ثالثہ کے ابتدائی شیریں ثمرات میں سے ایک تھا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۰ء کے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا فضل عمر فاؤنڈیشن کا افتتاح ۱۹۶۵ء کے جلسے میں کیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا۔ایک بات اس وقت تو میں نے ظاہر نہیں کی اب بتا دیتا ہوں۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلافت کے مقام پر کھڑے کئے گئے تو سارے مخالف اندھوں نے کہا۔ایک بچے کو بٹھا دیا ہے اس نے کیا کام سنبھالنا ہے۔پھر وہی بچہ جب الہی تقدیر کے مطابق جب ۶۵ ء میں ہم سے جدا ہوا تو کہنے لگے بڑا ذہین ، بڑا صاحب فراست، بڑا عالم ، بڑا مد بر، بڑا انتظم جماعت سے علیحدہ ہو گیا، اب دیکھنا ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔۱۴ ء میں وہ نا قابل اعتنا بچہ تھا اور ۶۵ء میں وہ ایک ایسا بت بن گیا تھا ( غیروں کی نگاہ میں ہماری نگاہ میں نہیں) کہ وہ خیال کرتے تھے کہ اب وہ بت نہیں ہے تو جماعت ختم ہو جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے عمل سے اور اپنی رحمتوں کے جلوے دکھا کر جماعت کو کہا کہ ۱۴ء کا بچہ بھی میری انگلیوں میں ہتھیار بن کر اُٹھایا گیا تھا اور ۶۵ء میں بھی وہ میرا پیارا تھا جس کو میں نے اپنے پاس بلا لیا۔پھر میں نے ایک اور ذرہ نا چیز کو پکڑا ، وہ بھی میری انگلیوں میں ہے۔۱۹۱۴ء میں بھی تو تم ایک کو نا اہل کہتے رہے تھے ۱۹۶۵ء میں بھی کہہ لو۔کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان لوگوں کو دکھانے کے لئے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ذہن میں یہ تجویز پیج