سلسلہ احمدیہ — Page 17
17 ایک دوست کی خواب کا ذکر فرمایا جس میں حضرت مصلح موعودؓ نے ارشاد فرمایا تھا کہ حضرت خلیفتر ایج الثالث کو یہ پیغام پہنچا دیا جائے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن سے مینارہ ضرور بنایا جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ مینارہ کی تعبیر ایسے شخص کی ہوتی ہے جو اسلام کی طرف دعوت دینے والا ہو۔اور اس کا مطلب یہ تھا کہ فضل عمر فاؤنڈیشن سے جید عالم ضرور پیدا کئے جائیں اور اس سے بے تو جہی نہ برتی جائے۔اس خطاب کے آخر میں آپ نے فرمایا: ”اب میں اس نورانی چہرہ کا واسطہ دے کر آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ جلد سے جلد اور زیادہ سے زیادہ رقوم اس فاؤنڈیشن میں داخل کریں تا وہ کام جو ہمارے پیارے امام کو محبوب تھے ان میں ہم اور زیادہ وسعت پیدا کرسکیں۔(۴) حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا منشاء مبارک تھا کہ فضل عمر فاؤنڈیشن جلد اپنا دفتر قائم کرے۔چنانچه صدرانجمن احمد یہ ربوہ کے احاطے میں دفتر کی تعمیر شروع کی گئی ، جس کا افتتاح حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۵ جنوری ۱۹۶۷ء کو فرمایا۔وعدوں کا حصول اور انکی وصولی سب سے پہلے توجہ کا تقاضا کرتی تھی۔چنانچہ نائب صدر کرنل عطاء اللہ صاحب اور سیکریٹری شیخ مبارک احمد صاحب نے پہلے سال کے دوران پاکستان کے مختلف اضلاع کا دورہ کر کے احباب کو اس چندے میں وعدے کرنے کی تحریک کی۔اور بعد میں ۱۹۶۹ء میں مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے اس غرض کے لئے انگلستان کا دورہ بھی کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث از راه شفقت چندوں کی ادائیگی کی خود بھی نگرانی فرماتے تھے۔چنانچہ ۱۹۶۸ء کی مجلس مشاورت میں حضور نے امراء جماعت کو فرداً فرداً ان کی جماعتوں کی طرف بقایا جات کی طرف توجہ دلائی اور بروقت ادائیگی کے لئے انتہائی کوشش کا ارشاد فرمایا۔اور فرمایا کہ بعض جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے اس طرف بالکل توجہ نہیں دی (۵)۔آغاز میں ۲۵ لاکھ روپے کی رقم کے لئے تحریک کی گئی تھی۔مگر بعد میں یہ وعدہ جات ۳۷لاکھ روپے سے تجاوز کر گئے۔عطایا کی ادائیگی کی میعاد ۱۹۶۹ء کے آخر میں ختم ہوگئی اور مدت کے اختتام تک ہبہ کی گئی جائداد سمیت کل تینتیس لاکھ چوراسی ہزار کا چندہ وصول کیا گیا۔پاکستان کے علاوہ اٹھا ئیں اور ممالک سے احمدی احباب نے اس تحریک میں چندے دیئے۔اگر چہ آغاز میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس امید کا