سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 19 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 19

19 کے طور پر آئی اور اعلان ہوا۔‘ (۶) پھر آپ نے فرمایا: فضل عمر فاؤنڈیشن اس خیال کے اوپر اللہ تعالیٰ کا ایک تازیانہ تھا جو کہتے تھے کہ اب جماعت مر جائے گی۔خدا نے کہا کہ جماعت اتنی قربانیاں دے رہی ہے آؤ تمہیں ایک نظارہ دکھاؤں۔‘ (۶) جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ فاؤنڈیشن کے چندے کی رقم سے سرمایہ کاری کی گئی تھی تا کہ حاصل شدہ منافع سے وہ کام سرانجام دیئے جائیں جن سے حضرت مصلح موعودؓ کو خاص دلچسپی تھی۔ایک سال منافع تو حاصل ہوا لیکن کوئی ایسا مناسب منصوبہ نہ بنایا جاسکا جس پر یہ رقم لگائی جاسکتی تو ۱۹۷۳ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے یہ اصولی ہدایت فرمائی: اور اب کچھ عرصہ سے روپیہ پڑا ہوا ہے اور انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہاں خرچ کریں۔جماعت نے تو وہ روپیہ قربانی کر کے دیا ہے اور رکھ چھوڑنے کے لئے نہیں دیا بلکہ اس لئے دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین اور اس کی مخلوق کو اس سے فائدہ پہنچے۔دو چار تجاویز زیر غور تھیں۔لیکن غور کے بعد انہیں رد کرنا پڑا۔اور دو ایک تجاویز اب زیر غور ہیں۔امید ہے انشاء اللہ یہ روپیہ پڑا نہیں رہے گا بلکہ اسے برکت کے دھاروں میں چالو کر دیا جائے (2)626 اب ہم ان کاموں کا مختصر جائزہ لیں گے جو فضل عمر فاؤنڈیشن کے تحت کئے گئے۔لیکن اس جائزے میں ہم صرف فاؤنڈیشن کی مساعی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جماعت کی تاریخ میں ان کاموں کی اہمیت اور ان کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ارشادات کا مختصر جائزہ بھی لیں گے۔خلافت لائبریری اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تو آپ نے مسلمانوں کو ایک علمی جہاد کی طرف بلایا تا کہ پیار اور دلائل کے ساتھ دنیا کو اسلام کی طرف بلایا جائے اور اُن