سلسلہ احمدیہ — Page 172
172 اب ہم مختصراً حضور اقدس کے اس ارشاد کا جائزہ لیتے ہیں۔اس وقت سقوط ڈھا کہ پر ایک تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا۔جو کہ حمود الرحمن کمیشن کے نام سے معروف ہے۔اس وقت تو اس کی رپورٹ خفیہ رکھی گئی تھی لیکن بہت عرصہ بعد یہ رپورٹ شائع کر دی گئی۔ہم اس رپورٹ کا تجزیہ بھی دیکھتے ہیں۔بنگال کی زمین کو چار دریاؤں نے چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔اور ان دریاؤں کے درمیان بہت سے چھوٹے دریا اور آبی راستے موجود ہیں۔یہ جال اس طرح بچھا ہوا ہے کہ کوئی فوج ان کو حملہ آور کے حملہ کے وقت اپنے دفاع کے لئے استعمال کر سکتا ہے لیکن اس مقصد کے لئے تیاری ضروری ہے۔اور جب مدِ مقابل افواج ان آبی راستوں کو عبور کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تو اس عمل کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ دفاعی فوج کے پاس مناسب تو پخانہ اور ایئر فورس موجود ہو تا کہ مد مقابل فوج کو یہ رکاوٹ عبور نہ کرنے دی جائے۔لیکن پاکستان کی طرف سے مشرقی پاکستان کے دفاع کا روایتی منصوبہ یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کیا جائے گا۔یعنی اگر مشرقی پاکستان پر حملہ کیا گیا تو مغربی پاکستان کے محاذ پر پاکستان کی افواج اتنا دباؤ ڈال دیں گی کہ مد مقابل افواج کی مشرقی محاذ پر کامیابی برا بر ہو جائے گی اور ایک عرصہ سے مشرقی پاکستان کے دفاع کی کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی۔جبکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ بالکل نا قابل عمل منصوبہ تھا۔اور مشرقی پاکستان میں جو تیاری کی گئی تھی اس کے متعلق حمود الرحمن کمیشن رپورٹ نے یہ تبصرہ کیا۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ جہاں تک مشرقی پاکستان میں آرمی کی تیاری کا تعلق ہے، یہ فوج ہر طرف سے حملہ آور بھارت کی آٹھ ڈویژن فوج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی خاص طور پر جبکہ بھارتی فوج کو آرمر اور ایسی ایئر فورس کی مدد حاصل ہو جو دن میں دوسومر تبہ حملہ آور ہورہی ہو۔“ جہاں تک ایئر فورس ، آرمر اور آرٹیلری ( جو کہ آبی راستوں کی حفاظت کے لئے بھی ضروری تھی ) کی تیاری کے تعلق ہے اس کے متعلق حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے 'Even after the increase of the manpower to 3 divisions, the armour and artillery and air strength