سلسلہ احمدیہ — Page 173
173 remained grossly under strength)ric یعنی افواج میں اضافہ کے باوجود اور اس کو تین ڈویژن تک بڑھانے کے باوجود آرمر، آرٹیلری اور ایئر فورس کی قوت ضرورت سے بہت کم تھی۔اور نتیجہ یہ تھا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو شروع میں ہی مشرقی پاکستان میں ایئر فورس کی رن وے اڑا دی گئی۔اور اس جنگ میں مشرقی محاذ میں جنگ کے دوران ایئر فورس اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل ہی نہیں تھی۔اور جب ۱۹۷۴ء میں تمام جنگی قیدی بھارت کی قید سے واپس آگئے اور وہ جنرل بھی پاکستان واپس آگئے جو مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے ذمہ دار تھے تو حمود الرحمن کمیشن نے حکومت کے کہنے پر اپنی تحقیقات کو مکمل کیا۔جنرل نیازی مشرقی پاکستان میں پاکستان کی آرمی کی قیادت کر رہے تھے ان پر الزامات کا خلاصہ نکالتے ہوئے اس کمیشن نے یہ اہم تبصرہ کیا: 'That he was guilty of criminal negligence in not including in his operational plan instruction no 3 of 1971, issued on the 15th of July 1971, any clear directive for a planned withdrawl of forces behind natural river obstacles to face the Indian onslaught and to defend what may be described as the Dacca triangle for the purpose of keeping east Pakistan by giving up non vital territory۔)rr( ترجمہ : وہ ( یعنی جنرل نیازی ) اس مجرمانہ غلطی کے قصوروار تھے کہ انہوں نے اپنے آپریشنل پلان کی ہدایت نمبر ۱۹۷۱،۳ء میں ، جس کو ۱۵ جولائی ۱۹۷۱ء کو جاری کیا گیا تھا، ایسی واضح ہدایت نہیں دی کہ فوج، بھارتی یلغار کا سامنا کرتے ہوئے ،ایک منصوبہ بندی کے تحت پیچھے بہتیں اور دریاؤں کی قدرتی روک کے عقب میں آکر اس علاقہ کو جسے ڈھا کہ مثلث کہا جا سکتا ہے کا دفاع کرتیں اور غیر اہم علاقہ کو ترک کر کے مشرقی پاکستان کو بچالیا جاتا۔“