سلسلہ احمدیہ — Page 171
171 مگر مسلمان جن کو اپنے وطنِ عزیز کی بقا اور سلامتی کے لئے تیاری کرنا چاہئے تھی انہوں نے نہ صرف حالات حاضرہ کے تقاضوں کو نظر انداز کیا بلکہ قرآنِ کریم کی اس بے نظیر تعلیم کو بھی فراموش کر دیا وَ لَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاعَدُّوا لَهُ عُدَّةً (التوبة : ٤٦) یعنی اگر تم جنگ کے لئے نکلنے کا پختہ ارادہ رکھتے تو اس کے لئے کوئی تیاری بھی کرتے۔گویا ہر منصوبہ کے لئے تیاری کرنا ضروری ہے ورنہ صرف یہ کہ دینا کہ ہم یہ کام کرنے کے لئے تو تیار ہیں لیکن ہمیں فلاں مجبوری ہے اور ہمارے راستہ میں فلاں روک ہے دراصل قرون اولی کی اسلامی رویات اور قرآنی تعلیم کونہ سمجھنے کی دلیل ہے۔۔۔۔پس جب خدا تعالیٰ کوئی منصوبہ بناتا ہے تو اس کے ماننے والوں کو اس کے بروئے کار لانے کے لئے پوری تیاری کرنی پڑتی ہے۔ہم اس حقیقت کو بھول گئے لیکن اسلام کے مخالف نے بڑی لمبی تیاری کی اور وہ اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو گیا۔اگر بھارتی فوج پل بنانے کی اہلیت نہ رکھتی تو مشرقی پاکستان کا وہ حال نہ ہوتا جو دسمبر اے ء میں ہوا۔ہمیں یہ بات سوچنی چاہئے تھی اور یہ بڑی واضح بات تھی کہ بغیر پل بنانے کے دشمن مشرقی پاکستان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہمیں پہلے سے تیار ہونا چاہئے تھا کہ ہم ان کو پل نہیں بنانے دیں گے لیکن جب پل بن گئے اور جب ان پلوں پر سے بھارتی فوج تخریب کار، شرپسند اور غنڈے اپنے ساز وسامان کے ساتھ مشرقی پاکستان میں گھس گئے تو پھر کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے پل بنا لئے تھے اس لئے وہ کامیاب ہو گئے۔اصل بات یہ نہیں اصل بات یہ ہے کہ تمہارے دماغ میں بہت پہلے سے یہ بات آنی چاہئے تھی کہ دشمن پل بنانے کی کوشش کرے گا اور ہم اسے پل نہیں بنانے دیں گے۔یہ اس وقت کی حکومت کی سخت غلطی تھی (اب تو حکومت بدل گئی ہے ) انہوں نے ان چیزوں کو نہیں سوچا۔میں نے بعض افسروں کو بہت پہلے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ہمارے لئے وہاں کے پانی بڑے اہم ہیں تمہیں ان کی حفاظت کا انتظام کرنا چاہئے لیکن انہوں نے سمجھا کہ میں تو ایک Layman یعنی ایک عام آدمی ہوں مجھے ان چیزوں سے کیا واسطہ اور کیا علم ہوسکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے علم اور تجربہ کے غرور میں ملک کو دوٹکڑے کروا دیا۔‘ (۳۰)