سلسلہ احمدیہ — Page 6
6 بھائی بھی اللہ تعالیٰ کے ان انعامات میں شریک ہوتے تو ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات تھی۔لیکن ہوا یہ کہ ان کو تو اللہ تعالیٰ نے بڑے انعامات سے نواز الیکن اس کے مقابلہ میں جو انعامات ہمیں ملنے چاہئیں تھے ہمیں نہیں ملے۔(۵) خواہ تحریک جدید کا چندہ ہو یا مالی قربانیوں کا کوئی اور میدان ہو، اس میں جہاں یہ بات مدنظر رکھنی ضروری ہے کہ ایک مد میں کل کتنی قربانی پیش کی جارہی ہے اور چندہ دینے والوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے ، وہاں یہ بات بھی مد نظر رہنی چاہئے کہ اس مد میں مالی قربانی پیش کرے والے مجموعی طور پر اپنی حیثیت کے مطابق مالی قربانی پیش کر رہے ہیں کہ نہیں۔چنانچہ جب دفتر سوئم کے آغاز کو کچھ سال گزر گئے تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس امر کی توجہ دلاتے ہوئے ۱۹۶۸ء میں حضور نے ارشاد فرمایا: سال رواں کا جب ہم تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ دفتر اول (جس کی ابتداء پر ۳۴ سال گزر چکے ہیں ) کا وعدہ سال رواں کا ایک لاکھ پچپن ہزار روپیہ ہے اور دفتر دوم میں شامل ہونے والوں کے وعدے تین لاکھ چون ہزار ہیں اور دفتر سوم میں شامل ہونے والوں کے وعدے اکتالیس ہزار ہیں۔اگر مختلف دفاتر میں شامل ہونے والوں کی اوسط فی کس آمد نکالی جائے تو دفتر اول کے مجاہدین کی اوسط ۶۴ روپے بنتی ہے۔بہت سے احباب اس سے بہت زیادہ دیتے ہوں گے اور جو غریب ہیں وہ اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق ہی تحریک جدید میں حصہ لیتے ہوں گے۔لیکن اوسط ان کی ۶۴ روپے فی کس بنتی ہے۔اس کے مقابلہ میں دفتر دوم کے مجاہدین کے تحریک جدید کے چندہ کی اوسط انیس روپے بنتی ہے اور ۶۴ روپے کے اوسط کے مقابلہ میں یہ بہت کم ہے۔دونوں دفاتر کی اوسط میں بڑا فرق ہے۔دفتر سوم کے مجاہدین مال کی اوسط چودہ روپے فی کس بنتی ہے۔اس میں اور دفتر دوم کی اوسط میں فرق تو ہے لیکن زیادہ فرق نہیں خصوصاً جب یہ بات ہمارے مد نظر رہے کہ اس میں شامل ہونے والے بہت سے بچے بھی ہیں جنہوں نے ابھی کمانا شروع نہیں کیا۔ان کے والدین ان کی طرف سے کچھ چندہ تحریک جدید میں ادا کر دیتے ہیں اور جو کمانے والے ہیں وہ اپنی کمائی کی عمر کے ابتدائی دور میں سے گزر رہے ہیں۔۔۔۔۔