سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 5 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 5

5 حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۹۷ء میں تحریک جدید کے نئے مالی سال کا اعلان کرتے ہوئے تحریک جدید کے آغاز میں قربانیاں کرنے والوں کے ذکر کے بعد فرمایا: اس وقت جماعت نے جو قربانیاں دیں اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرے۔بہت سے ہیں جنہوں نے قربانیاں دیں وہ اس جہاں سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن ہماری مالی قربانیوں کی رفتار اتنی نہیں رہی جتنی کہ ہماری ضرورتوں کے بڑھنے کی رفتار تھی۔“ ( خطبات ناصر جلد اول صفحه ۹۴۴-۹۴۵) حضور نے فرمایا کہ ۱۹۵۳ء میں دفتر اول کا چندہ ۲۴۶۰۰۰ روپے تھا اور دفتر دوم کا چندہ ۱۱۰۰۰۰ تھا اور میزان ۵۶۰۰۰ ۳ روپے تھا جبکہ ۱۹۶۰ء میں دفتر اول کی آمد گر کر ۱۸۳۰۰۰ روپے رہ گئی کیونکہ اس دوران اس میں شامل بہت سے افراد فوت ہو گئے تھے اور اس سال دفتر دوم کی آمد بڑھ کر ۷۲۰۰۰ اروپے ہوگئی اور اس کا میزان ۵۵۰۰۰ ۳ روپے بنتا ہے۔اور ۱۹۶۷ء میں دفتر اول کی آمد ۱۲۰۰۰۰ روپے رہ گئی اور دفتر دوم کی آمد ۲۳۸۰۰۰ ہو گئی۔اور اس سال ان دونوں کا میزان ۳۲۸۰۰۰ روپے بنتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ۱۹۷۰ ء کے جو اعداد و شمار بیان کئے گئے ہیں وہ مدوں کے نہیں بلکہ اصل آمد کے ہیں اور ابھی وصولی کے کچھ مہینے باقی ہیں۔پاکستان سے باہر کے ممالک کی مالی قربانی کے بارے میں حضور نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا نہ کرتا کہ آپ کی غفلت اور سستی پر پردہ ڈال دے تو ہمارے سارے کام رک جاتے اس لئے کہ اس عرصہ میں بیرون پاکستان میں اتنی مضبوط جماعتیں پیدا ہو گئیں کہ ان میں بہت سی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئیں اور بہت سی ایسی تھیں جنہوں نے بیرون پاکستان مشنز کو امداد دینی شروع کر دی اور اس کے نتیجہ میں ہمارے کام میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ترقی کی طرف ہمارا قدم بڑھتا چلا گیا۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ خوش ہو جائیں کہ ہمیں اب زیادہ قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں۔اسکے معنے تو یہ ہیں کہ جیسے فکر پیدا ہوئی ہے کہ ہم نے غفلت اور سنتی دکھائی۔اور وہ انعامات جو ہمیں ملنے چاہئیں تھے وہ ہمیں نہیں ملے اور دوسروں نے ہمارے ہاتھ سے چھین لئے۔اگر ہمیں وہ مل جاتے اور بیرونِ پاکستان کے