سلسلہ احمدیہ — Page 7
7 لیکن میں نے سوچا اور غور کیا اور مجھے یہ اعلان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ ۱۹ روپے اوسط بہت کم ہے۔اور آئندہ سال جو یکم نومبر سے شروع ہو رہا ہے جماعت کے انصار کو ( دفتر دوم کی ذمہ داری آج میں انصار پر ڈالتا ہوں ) جماعتی نظام کی مدد کرتے ہوئے ( آزادانہ طور پر نہیں ) یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دفتر دوم کے معیار کو بلند کریں اور اس کی اوسط انیس روپے سے بڑھا کر میں روپے فی کس پر لے آئیں۔۔دفتر سوم کے متعلق میرا تاثر یہ ہے کہ اگر چہ ان کے حالات کے لحاظ سے چودہ اور انیس کا زیادہ فرق نہیں لیکن اس دفتر میں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے یہ ابھی تک تین ہزار تک پہنچے ہیں لیکن ہم باور نہیں کر سکتے کہ ہماری آئندہ نسل زیادہ ہونے کی بجائے تعداد میں پہلوں سے کم ہوگئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو وعدہ دیا تھا کہ میں ان کے نفوس میں برکت ڈالوں گا اس وعدہ کو وہ سچے وعدوں والا پورا کر رہا ہے اور ہماری آئندہ نسل میں غیر معمولی برکت ڈال رہا ہے۔دفتر سوم والوں کا عمر کے لحاظ سے جو گروپ بنتا ہے یعنی اس عمر کے احمدی بچے اور اس زمانہ میں نئے احمدی ہونے والے۔ان میں سے جس نسبت سے افراد کو تحریک جدید میں شامل ہونا چاہئے اس نسبت سے یہ تعداد تین ہزار سے بڑھنی چاہئے۔اگلے سال کے لئے میں یہ امید کرتا ہوں کہ جماعت کوشش کر کے اس تعداد کو تین ہزار سے پانچ ہزار تک لے جائے گی اور ان کی اوسط چودہ سے اونچی کر کے بیس تک لے جائے گی۔‘ (۶) دفتر سوئم کے آغاز پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے پاکستان سے باہر کی جماعتوں کی مالی قربانیوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا تھا۔اور اب بیرونِ پاکستان میں مختلف ممالک کی جماعتوں کی مالی قربانی کا معیار بلند ہو رہا تھا۔ہم یہاں پر خلافت ثالثہ کے دوران مختلف ممالک کی مالی قربانیوں کے مختصر اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔مالی سال ۱۹۶۶ ء۔۱۹۶۷ء سے لے کر مالی سال ۱۹۸۴ء - ۱۹۸۵ ء تک تحریک جدید میں پاکستان سے باہر جس جماعت کو سب سے زیادہ مالی قربانی کی توفیق ملی وہ جماعت احمدیہ انڈونیشیا تھی۔پاکستانی روپے کے مطابق اس دوران جماعت احمد یہ انڈونیشیا نے ایک کروڑ چودہ لاکھ سے زائد کی رقم تحریک جدید کے لئے پیش کی۔اس کے بعد جماعت احمد یہ