سلسلہ احمدیہ — Page 64
64 عظیم الشان پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا جو اپنے وقت پر پورا ہو کر عظیم نشان بن گئیں۔ان پیشگوئیوں میں عالمی جنگوں کی پیشگوئی بھی شامل تھی۔پھر حضور نے فرمایا :۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تیسری جنگ کی بھی خبر دی ہے جو پہلی دونوں جنگوں سے زیادہ تباہ کن ہو گی۔دونوں مخالف گروہ اس طرح اچانک طور پر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے کہ ہر شخص دم بخودرہ جائے گا۔آسمان سے موت اور تباہی کی بارش ہوگی اور خوفناک شعلے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔نئی تہذیب کا قصر عظیم زمین پر آ رہے گا دونوں متحارب گروہ یعنی روس اور اس کے ساتھی اور امریکہ اور اس کے دوست ہر دو تباہ ہو جائیں گے ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی ان کی تہذیب و ثقافت بر باد اور ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔بچ رہنے والے حیرت اور استعجاب سے دم بخود اور ششدر رہ جائیں گے۔روس کے باشندے نسبتاً جلد اس تباہی سے نجات پائیں گے اور بڑی وضاحت سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اس ملک کی آبادی پھر جلد ہی بڑھ جائے گی اور وہ اپنے خالق کی طرف رجوع کریں گے اور ان میں کثرت سے اسلام پھیلے گا اور وہ قوم جو زمین سے خدا کا نام اور آسمان سے اس کا وجود مٹانے کی شیخیاں بگھار رہی ہے ، وہی قوم اپنی گمراہی کو جان لے گی اور حلقہ بگوش اسلام ہو کر اللہ تعالیٰ کی توحید پر پختگی سے قائم ہو جائے گی۔شاید آپ اسے ایک افسانہ سمجھیں مگر وہ جو اس تیسری عالمگیر تباہی سے بچ نکلیں گے اور زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے کہ یہ خدا کی باتیں ہیں اور اس قادر و توانا کی باتیں ہمیشہ پوری ہی ہوتی ہیں۔کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔پس تیسری عالمگیر تباہی کی انتہاء اسلام کے عالمگیر غلبہ اور اقتدار کی ابتداء ہوگی اور اس کے بعد بڑی سرعت کے ساتھ اسلام ساری دنیا میں پھیلنا شروع ہوگا اور لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیں گے اور یہ جان لیں گے کہ صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے اور یہ کہ انسان کی نجات صرف محمد رسول اللہ کے پیغام کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔“ پھر حضور نے فرمایا کہ یہ ایک انذاری پیشگوئی ہے جو کہ تو بہ استغفار سے ٹل بھی سکتی ہے۔اگر