سلسلہ احمدیہ — Page 63
63 شروع ہوا۔نماز ظہر اور عصر کی ادائیگی کے بعد حضور آکسفورڈ تشریف لے گئے۔حضور نے اس تعلیمی درس گاہ کی سیر فرمائی جس میں آپ نے تعلیم حاصل کی تھی۔اگلے روز خطبہ جمعہ میں آپ نے ارشاد فرمایا:۔انشاء اللہ تعالے میں اپنے بھائیوں سے لمبی گفتگو تو جلسہ سالانہ کی تقریب پر جو یہاں ہوگی کروں گا۔آج میں آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ زمانہ جس میں ہم رہ رہے ہیں نہایت تاریک زمانہ ہے۔یہ بر اعظم اور اس کا یہ جزیرہ جس میں آپ اور دیگر پاکستانی رہائش پذیر ہیں روحانی طور پر تاریک بر اعظم ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا ایک فرستادہ دنیا کو یہ نہ بتاتا کہ وو اس زمانہ کا حصن حصین میں ہی ہوں۔“ اور جس کی آمد سے دنیا کا یہ مضبوط قلعہ شیطان کے وساوس سے بچنے کی وجہ سے قہر الہی سے محفوظ رہا تو یہ دنیا آج مر چکی ہوتی۔خدا تعالیٰ نے جو بندوں سے پیار کرنے والا ہے۔اس دنیا کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے ایک بندے کو اس کی طرف مبعوث فرمایا اور اس دنیا کو ایک حصن حصین ، ایک قلعہ بنادیا جس میں تمام دنیا کو پناہ مل سکتی ہے۔“ خطبہ جمعہ کے اختتام پر حضور نے فرمایا ” جہاں یہ زمانہ بڑا نازک ہے وہاں خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے بھی دروازے کھلے ہیں۔بڑا بد بخت ہے وہ شخص جس کو دونوں دروازوں کا علم ہو مگر وہ اچھے دروازہ کو منتخب نہ کرے۔آپ دنیا کے استاد بنائے گئے ہیں دعا کریں کہ اپنی غفلت کے نتیجہ میں دنیا کے شاگرد نہ بن جائیں۔(۲۰) ۲۸ جولائی کو وائڈز ورتھ میں حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا۔تقریب میں یہاں کے میئر نے حضرت خلیفتہ امیج الثالث کا تعارف کرایا۔تقریب میں ایک رکن پارلیمنٹ اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی تقاریر کیں۔حضور نے اس موقع پر بصیرت افروز خطاب فرمایا۔اس خطاب میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندانی پس منظر اور آپ کی بعثت کا پس منظر بیان فرمایا۔پھر حضور نے عالمی تبدیلیوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سی