سلسلہ احمدیہ — Page 702
702 کے مکرم شمشیر سوکیہ صاحب کو آئیوری کوسٹ میں امیر ومشنری انچارج مقرر کیا گیا اور انہوں نے مکرم قریشی محمد افضل صاحب سے چارج لیا۔شمشیر سوکیہ صاحب نے فرنچ زبان میں 9 کتابچے شائع کئے۔۱۹۷۷ء میں مکرم قریشی محمد افضل صاحب ایک بار پھر آئیوری کوسٹ کے امیر و مشنری انچارج مقرر ہوئے۔جو مسجد پہلے بنائی گئی تھی وہ اب ضروریات سے چھوٹی ہوگئی تھی۔اس لئے ۱۹۷۷ء میں اس میں توسیع کی گئی۔۱۹۸۱ء میں عبد الرشید رازی صاحب کا تقر ر آئیوری کوسٹ کے امیر و مشنری انچارج کے طور پر کیا گیا۔کسی بھی ملک میں تبلیغ کے کام کو بھر پور طریقے سے کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہاں کے مقامی احباب کو تبلیغ کے اہم کام کے لئے تیار کیا جائے۔چنانچہ مکرم قریشی مقبول صاحب نے مالی کے رہنے والے ایک باشندے مکرم محمد غزالی جالی صاحب کو مقامی مبلغ کے طور پر تیار کیا۔انہوں نے آئیوری کوسٹ کے علاوہ مالی میں بھی جا کر تبلیغ کی۔مکرم قریشی محمد افضل صاحب نے بھی عربی اور دینیات کی کلاسوں کا اجراء کیا۔ان کلاسوں سے استفادہ کرنے والے احباب میں سے جن کو خدمتِ دین کا شوق ہوتا تو ان سے مبلغ کے طور پر خدمات لی جاتیں۔ان میں سے مکرم عبد الحمید صاحب بر کینافاسو کے باشندے تھے انہیں پہلے برکینا فاسو بھجوایا گیا پھر وہ آئیوری کوسٹ میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ان کے علاوہ ان طلباء میں سے مکرم عبد الرحمن کو ناتے صاحب ،احمد تورے صاحب، سعید کو ناتے صاحب اور صدیق آدم صاحب نے آئیوری کوسٹ میں خدمات سرانجام دیں۔اور ان کے علاوہ مالی کے عمر معاذ صاحب اور تیر و دریا صاحب نے بھی تبلیغی خدمات سرانجام دیں۔پہلے ان احباب نے تو باقاعدہ کسی ادارے میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن ان میں سے مکرم عبد الرحمن کو ناتے صدیق آدم صاحب اور عمر معاذ صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ مرکز سلسلہ جا کر دین کا علم حاصل کریں گے۔لیکن ہوائی سفر کی استعداد نہیں تھی۔چنانچہ یہ تینوں احباب خشکی کے راستے اس سفر پر ربوہ کے لئے روانہ ہو گئے۔۱۹۸۱ء میں یہ سفر شروع کیا گیا اور ۱۹۸۲ء کے آخر میں یہ احباب ربوہ پہنچ گئے۔اور پھر اپنے تعلیم مکمل کر کے ۱۹۸۶ء میں یہ احباب واپس آئیوری کوسٹ پہنچے۔ٹرینیڈاڈ