سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 703 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 703

703 خلافت ثالثہ کے دوران ٹرینیڈاڈ میں ایک نئی مسجد کی تعمیر ہوئی اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۰ ء کے جلسہ سالانہ کی تقریر میں اس کا ذکر بھی فرمایا۔محمد حنیف یعقوب صاحب نے اپنی زمین کا ایک قطعہ جماعت کے لئے وقف کیا اور اس پر مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔۱۹۷۴ء میں اس مسجد کی تعمیر کا کام مکمل ہوا۔یہاں پر جماعت احمدیہ کی رجسٹریشن کا مرحلہ طے ہونا باقی تھا۔محمد حنیف یعقوب صاحب نے حکومت کو رجسٹریشن کے لئے درخواست دی۔جب جون ۱۹۷۳ء میں سینٹ میں یہ بل پیش ہوا تو پانچ مسلمان ممبران نے مخالفت کی لیکن اکثریت نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیئے اور جماعت یہاں پر رجسٹر ہوگئی۔لبنان خلافت ثانیہ کے اختتام پر لبنان میں مکرم مولوی نصیر احمد خان صاحب بطور مبلغ خدمات سرانجام دے رہے تھے۔۱۹۶۲ء میں لبنان میں بغاوت ہو گئی اور ملکی حالات کی وجہ سے تبلیغی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔مولوی نصیر احمد خان صاحب کی شکایت کی گئی کہ یہ تبلیغ کرتے ہیں۔ان میں سے کئی شکایات عیسائیوں کی جانب سے بھی کی گئی تھیں۔ان حالات میں دسمبر ۱۹۶۳ء میں آپ واپس پاکستان تشریف لے آئے۔اس کے بعد مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب کو عربی زبان سیکھنے کے لئے لبنان بھجوایا گیا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جو ہدایات اپنے قلم سے تحریر فرمائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ علم قرآن سیکھنے کے لئے ربوہ سے باہر جانے کی ضرورت نہیں آپ وہاں عربی زبان تحریر تقریر بول چال سیکھنے کے لئے جارہے ہیں پس پوری توجہ اس طرف دیں۔آپ کو ہدایت دی گئی تھی کہ کھلم کھلا تبلیغ نہ کی جائے۔تا ہم آپ حکمت کے ساتھ مختلف احباب ، اسا تذہ اور طلباء سے تبادلہ خیالات کرتے رہے اور ان تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کے معارف پہنچاتے رہے۔اس عرصہ میں بیروت میں مرزا جمال احمد صاحب کے گھر پر نماز جمعہ کا اہتمام ہوتا تھا۔لبنانی احمدیوں کی تربیت اور مرکز سے رابطہ کے لئے مکرم مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب گیمبیا جاتے ہوئے بیروت بھی رکے۔آپ نے مفتی لبنان سے بھی ملاقات کی۔