سلسلہ احمدیہ — Page 62
62 ہوں اور ان کو بطور نمونہ پیش کریں اور پھر حقیقت حال کو آزما لیں۔اگر بعد تحقیق یہ بڑے بڑے اعتراضات ہی غلط نکلے تو چھوٹے چھوٹے اعتراضات ساتھ ہی نابود ہو جائیں گے۔اور یہ اعتراضات اور ان کے جوابات ایک رسالہ میں شائع کئے جائیں گے۔اس کے بعد کسی ثالث کی رائے یا خود فریق مخالف کے حلف پر فیصلہ کیا جائے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ فریق مخالف نامی علماء میں سے ہو اور اپنی مذہبی کتب کا علم بھی رکھتا ہو۔(۱۸) ۲۵ جولائی کو میئر نے اہالیان شہر کی طرف سے حضور کے اعزاز میں اسقبالیہ دعوت دی۔اور میئر صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں اپنے ساتھیوں اور شہریوں کی طرف سے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے شہر کو مسجد کی تعمیر کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جوابی تقریر میں فرمایا کہ ہم بھی آپ لوگوں کے تعاون اور رواداری جو آپ نے مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں دکھائی ممنون ہیں۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ مسلمان ایک بہترین اور مثالی شہری ہوا کرتا ہے۔اس کے علاوہ یہ امر بھی ہمارے ایمان کا جزو ہے کہ ہم ہر ملک کے مروجہ قانون کی پیروی کریں۔(۱۹) حضرت خلیفۃ المسح الثالث کو احباب جماعت سے ایسا تعلق تھا کہ ان کی تکلیف آپ کو بے چین کر دیتی تھی۔مکرم چوہدری محمد علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ڈنمارک میں ایک روز میں نے دیکھا کہ حضور رات کو پونے چار بجے ٹہل رہے تھے۔میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ حضور کیا بات ہے؟ کچھ دیر کندھے سے پکڑے رکھا اور ٹہلتے رہے جیسے دعا کر رہے ہوں پھر فرمایا کہ ایک عورت کا خط آیا کرتا تھا کہ اس کی بچی بیمار ہے۔آج کی ڈاک میں اس کا خط نہیں آیا پتا نہیں اس کا کیا حال ہے؟ ڈنمارک کے کامیاب دورہ کے بعد حضور ۲۶ / جولائی کو کوپن ہیگن سے لندن کے لئے روانہ ہوئے۔جب لندن میں حضور طیارہ سے باہر تشریف لائے تو وہاں پر موجود احباب جماعت نے حضور کا پر تپاک خیر مقدم کیا۔ہوائی اڈہ سے حضور Queens Building تشریف لے آئے جہاں تمام احباب نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔اس موقع پر پریس کے نمائندگان نے حضور کا مختصر انٹرویو لیا۔انٹرویو کے بعد حضور ۶۳ مروز روڈ پر مشن ہاؤس تشریف لے گئے۔اور یہاں پر مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں۔اگلے روز صبح دس بجے انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ