سلسلہ احمدیہ — Page 61
61 انسانیت ایک جیسی ہے۔ہمیں آپس میں بیٹھ کر تبادلہ خیالات کرنا چاہئے۔اس موقع پر جب عیسائی پادریوں نے دیکھا کہ حضور کے جوابات کا حاضرین پر غیر معمولی اثر ہو رہا ہے تو انہوں نے غیر مناسب رنگ میں اعتراضات کرنے شروع کر دیئے۔اس پر ڈینش احمدی مکرم عبد السلام میڈیسن صاحب جوش میں آگئے۔مگر حضور نے ان کو صبر کی تلقین کی اور بڑے حکیمانہ انداز میں اپنے جوابات کو جاری رکھا۔ملاقات کے آخر میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے تمام عیسائی علماء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک چینج کا انگریزی ترجمہ پیش کر کے فرمایا کہ یہ دعوت اب بھی کھلی ہے۔ہمیں خوشی ہو گی اگر عیسائیت کی سچائی اور اسلام کی صداقت کا فیصلہ کرنے کے لئے عیسائی حضرات اس دعوت کو قبول کریں۔حضور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے جس چیلنج کو اس موقع پر دہرایا وہ یہ تھا۔توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی۔اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورۃ کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا چاہیں یعنی سورہ فاتحہ کے ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جس ترتیب انسب اور ترکیب محکم اور نظام فطرتی سے اس سورۃ میں صد ہا حقائق اور معارف ا دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چند ورق انجیل سے نکالنا چاہیں تو گوساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لا حاصل ہوگی۔اور یہ بات لاف و گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ہم کیا کریں اور کیونکر فیصلہ ہو پادری صاحبان ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتے۔اگر وہ اپنی توریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خواص کلامِ الوہیت ظاہر کرنے میں کامل سمجھتے ہیں تو ہم بطور انعام پانچسو روپیہ نقدان کو دینے کے لئے تیار ہیں۔اگر وہ اپنی کل ضخیم کتابوں میں سے جو ستر کے قریب ہوں گی وہ حقائق اور معارف شریعت اور مرتب اور منتظم در بر حکمت و جواہر معرفت اور خواص کلام الوہیت دکھلا سکیں جوسورۃ فاتحہ میں سے ہم پیش کریں گے۔۔۔“ پھر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ چیلنج بھی دہرایا کہ جو اصول اور تعلیمیں قرآن کریم کی ہیں وہ سراسر حکمت اور معرفت سے بھری ہوئی ہیں۔منکرین قرآن کریم کو چاہئے کہ دو تین بڑے بڑے اعتراضات سوچ لیں جو ان کے نزدیک قرآنِ کریم پر وارد ہوتے