سلسلہ احمدیہ — Page 677
677 آنے کا مقصد دریافت کیا۔انہیں مختصر جواب دیا گیا اور کہا گیا کہ ہمیں افسوس ہے کہ حکومت کو ہمارے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے ہمارا مقصد سوائے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے اور کچھ نہیں ہے۔اور انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ہم واپسی کی سیٹیں بک کرا چکے ہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ پھر تو کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔جب واپسی پر یہ دونوں احباب ایئر پورٹ پہنچے تو کمشنر پولیس نے ان کو ان کی کتب واپس کیں۔اور پھر یہ وفد اس قیام کے بعد ماریشس روانہ ہو گیا۔اس دورہ کے دوران بارہ افراد نے جماعت میں شمولیت اختیار کی اور ان کے ساتھ یہاں پر احمدیوں کی تعداد پچاس کے قریب ہوگئی۔غانا ۱۹۶۶ء میں غا نا میں سالٹ پانڈ کے مقام پر مشنری ٹرینگ کالج کھولا گیا۔اور اس میں اب تک مغربی افریقہ کے مختلف ممالک کے طلباء دینی تعلیم پاتے رہے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء کو جلسہ کی تقریر میں ارشاد فرمایا:۔اسی طرح وہاں ایک مشنری ٹریننگ کالج بھی کھولا گیا ہے جہاں ہم مبلغین تیار کر رہے ہیں اور اس کالج میں نائیجیریا، غانا، سیرالیون، گیمبیا اور لائبیریا کے طلباء تربیت حاصل کر رہے ہیں۔اس کالج کا منصوبہ تو خلافت ثانیہ میں ہی ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے دورہ افریقہ کے موقع پر ہی بنالیا گیا تھا لیکن اس کا اجراء خلافت ثالثہ میں ہوا۔اس کے پہلے پرنسپل کے طور پر مکرم مولا نا محمد صدیق شاہد گورداسپوری صاحب کو بھجوایا گیا۔اس کالج کا افتتاح مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۶۶ ء کو عمل میں آیا۔اس کا افتتاح امیر و مبلغ انچارج مکرم عطاء اللہ کلیم صاحب نے دعا اور طلباء کو نصائح سے کیا۔ابتدائی طلباء کی تعداد ۱۴ تھی جو مغربی افریقہ کے مختلف ممالک سے آئے تھے۔ابتداء میں مکرم مولا نا محمد صدیق گورداسپوری صاحب ہی سارے مضامین پڑھاتے تھے اور ان کے علاوہ مکرم مولا نا عطاء اللہ کلیم صاحب بھی طلباء کو پڑھاتے۔پھر مکرم جبریل سعید صاحب بھی اساتذہ میں شامل ہوئے۔پھر جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشاد پر مکرم مولا نا محمد صدیق گورداسپوری صاحب سیرالیون بطور امیر و مبلغ انچارج تشریف لے گئے تو مکرم عبد الوہاب آدم صاحب نے غانا کے مشنری ٹرینگ