سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 676 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 676

676 افسران داخل ہوئے اور کہا کہ ہمیں حکم ہوا ہے کہ فوراً آپ کو پولیس کمشنر کے دفتر میں لے کر جاؤں۔کمشنر صاحب کافی درشتگی سے پیش آئے۔اور پوچھا کہ یہاں کس غرض سے آئے ہو۔انہیں بتایا گیا کہ یہاں آنے کی غرض کچھ دوستوں سے ملاقات کرنا تھا۔ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے یہاں پر کوئی لٹریچر بھی تقسیم کیا ہے۔انہیں بتایا گیا کہ کچھ احباب کے کہنے پر انہیں کچھ لٹریچر بھی دیا گیا ہے۔اس پر پولیس کمشنر صاحب نے دراز سے ” اسلامی اصول کی فلاسفی“ کے عربی ترجمہ کی ایک کاپی نکالی اور کہا کہ کیا یہ کام کرنے آئے ہو۔یہ کاپی ایک عربی دان مسلمان کو دی گئی تھی۔پھر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس اور کتا بیں بھی ہیں۔اس پر انہیں بتایا گیا کہ ہمارے ہوٹل کے کمرے میں اور کتب بھی موجود ہیں۔چنانچہ پولیس ہوٹل میں گئی اور ان تمام کتب کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ہوٹل سے جب دوبارہ یہ لوگ دفتر پہنچے تو پولیس کمشنر وہاں پر نہیں تھا۔اور یوں پونا گھنٹہ اس دفتر میں تبلیغ کا موقع مل گیا۔اس دوران اس دفتر کے لوگ جماعت کی کتب پڑھتے رہے۔پولیس کمشنر صاحب اس وقت ملک کے مفتی اعظم سے مشورہ کرنے گئے تھے۔انہوں نے واپس آکر کہا کہ وہ اب جا سکتے ہیں اور وزیر خارجہ سے مل سکتے ہیں۔جب ان سے دریافت کیا گیا کہ جو کتب ضبط کی گئی ہیں تو انہیں بتایا گیا کہ جب تک مفتی اعظم اس کی منظوری نہ دیں گے یہ کتب واپس نہیں ہوں گی۔جب وزیر خارجہ سے ملے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ یہاں پر تمام مسلمان شافعی ہیں اس لئے حکومت نہیں چاہتی کہ یہاں پر اور کوئی فرقہ جنم ہے۔دورہ کے دوسرے مرحلہ میں یہ وفد Anjouan پہنچے۔یہاں پر ایک غیر احمدی مسلمان نے اپنے ہاں ٹھہرانے پر اصرار کیا۔کوموروز کے پہلے احمدی سعید عمر درویش صاحب بھی یہاں کے رہنے والے تھے انہوں نے مختلف احباب کو اپنے گھر پر بلانا شروع کیا جن کے ساتھ تبلیغی مجالس شروع ہوئیں۔تبلیغ کے ساتھ احمدی احباب کی تربیت کا کام بھی شروع کیا گیا اور سعید عمر درویش صاحب کو یہاں کی جماعت کا صدر مقرر کیا گیا۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ دو پولیس افسر پھر آگئے اور انہیں وزیر اعظم کی تار دکھائی کہ ماریشس سے آنے والے ان دو مسافروں کو آج دو پہر ان سے ملنے کے لئے Moroni پہنچ جانا چاہئے۔جہاز سے Moroni پہنچ کر سب سے پہلے انہوں نے اپنی سیٹیں ریزرو کرالیں۔پھر وزیر اعظم کے دفتر میں گئے تو چیف آف پروٹوکول نے ان سے ملاقات کی اور ان سے