سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 663 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 663

663 وہی لوگ جب ادھر آتے ہیں نائیجیر یا تو ان کا ملاپ ہوتا ہے ہمارے مشن سے۔وہ ہماری باتیں سنتے ہیں، کتابیں پڑھتے ہیں۔لے جاتے ہیں۔گھر جاتے ہیں۔اپنے علماء سے باتیں کرتے ہیں۔ان کو بتاتے ہیں مسئلے مسائل کہ یہ ایک جماعت ہے جو یہ باتیں پیش کر رہی ہے۔اس طرح ان کو تبلیغ ہوتی ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا ہے کہ بغیر کسی مبلغ اور مشن کے ایک مخلص اور فعال جماعت اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے دی۔اس سال ببینن کے جلسہ سالانہ پر سینکڑوں افراد جمع ہوئے۔چھوٹی جماعت ہے، نئی نئی بنی ہے اور مشن ہاؤس کی تعمیر انہوں نے شروع کر دی ہے۔جس کے اخراجات وہ خود ا کٹھے کر رہے ہیں۔“ بینن میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد پور تو نو دو میں بنی۔اس مسجد کا سنگ بنیاد امیر صاحب جماعت احمدیہ نائیجیر یا مکرم اجمل شاہد صاحب نے مورخہ ۲۷ /جنوری ۱۹۷۴ء کو رکھا۔اور اگست ۱۹۷۴ء کو اس کا افتتاح ہوا۔اور پھر اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا مشن ہاؤس بھی بنا دیا گیا۔اب اس جماعت کی ترقی اس بات کا تقاضا کر رہی تھی کہ یہاں پر ایک مرکزی مبلغ مقرر کیا جائے۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشاد پر آئیوری کوسٹ سے مکرم احمد شمشیر سوکیا صاحب یہاں آئے۔آپ کی آمد کے بعد بین کی جماعت ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔بیٹن میں فرانسیسی بولی اور سمجھی جاتی ہے اور سو کیا صاحب کو فرانسیسی پر عبور تھا اس لئے آپ کو تبلیغ میں بہت سہولت تھی۔نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور جماعت کا لٹریچر شائع کیا گیا۔برکینا فاسو میں تبلیغ کی کوششیں برکینا فاسو جو کہ پہلے اپر وولٹا کہلاتا تھا مغربی افریقہ کا ملک ہے۔یہ پہلے فرانسیسی کالونی تھی اور ۱۹۶۰ء میں اسے آزادی ملی۔اس کی اکثریت ارواح پرست (Animist) ہے اور مسلمان بھی خاطر خواہ تعداد میں آباد ہیں۔غانا اور برکینا فاسو کے درمیان ہمیشہ سے قریبی روابط رہے ہیں اور برکینا فاسو میں احمدیت کا تعارف بھی غانا کے ذریعہ پہنچا۔شمالی غانا میں ایک قصبہ وا نام کا ہے۔یہاں پر ایک عالم اور تاجر الحاج معلم صالح نام کے تھے۔جنہوں نے اپنے کچھ دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احمدیت قبول کر لی۔ان کی بہت شدید مخالفت کی گئی۔دوسرے مسلمانوں اور عیسائیوں نے ان کا