سلسلہ احمدیہ — Page 664
664 بائیکاٹ کیا ان پر مقدمات قائم کئے اور ان میں سے کئی کو جلا وطن کیا گیا۔ان پر قاتلانہ حملے کئے گئے۔الحاج معلم صالح کے بعض شاگر دا پر وولٹا ( برکینا فاسو) کے تھے۔انہوں نے احمدیت قبول کی اور اس طرح وا کے ذریعہ احمدیت کا پیغام اس ملک میں پہنچا لیکن یہاں پر کوئی باقاعدہ تنظیم قائم نہ ہو سکی۔ستمبر ۱۹۵۳ء میں غانا کے مبلغ مکرم مولانا نذیر احمد مبشر صاحب نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دریائے وولٹا کے بالائی حصہ میں جو فرانسیسی علاقہ ہے، اس میں دو مقامات پر احمدیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔اور ایک جگہ کے احمدی جو اپنے علاقے کے شاہی خاندان سے ہیں ان کو فرانسیسی حکومت نے غیر احمدیوں کی مخالفت کی وجہ سے نکال دیا تھا لیکن پھر وا کے الحاج معلم صالح نے بہت کوششیں کر کے انہیں وہاں پھر آباد کر وا دیا۔اپر وولٹا اور وا میں تجارتی تعلقات تو تھے ، اس طرح دوا کی جماعت کی وساطت سے اپر وولٹا کے احمدیوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی ہو جاتا۔یہاں کے غیر احمدی احباب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب بڑے شوق سے خریدتے۔مولانا نذیر احمد مبشر صاحب کی کتاب القول الصریح فی ظهور المهدی واسیح بھی اپروولٹا کے عربی دان مسلمانوں میں بہت مقبول ہوئی۔اپر وولٹا کے کچھ احمدی احباب وا کی سالانہ کا نفرنس میں بھی شامل ہوتے۔جب ۱۹۶۷ء میں مغربی افریقہ کے مبلغین کی کانفرنس لائبیریا میں منعقد ہوئی تو اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اپروولٹا ( برکینا فاسو ) میں تبلیغ کا کام اب آئیوری کوسٹ کی جماعت کے سپرد کیا جائے۔بظاہر اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ یہ دونوں ممالک Francophone ہیں یعنی ان میں دوسری زبان کے طور پر فرانسیسی زبان مستعمل ہے۔اور یہ کام آئیوری کوسٹ کے امیر ومشنری انچارج مکرم قریشی محمد افضل صاحب کے سپر د ہوا۔انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ یہ فیصلہ کیا کہ ایک مبلغ برکینا فاسو بھجوایا جائے اور اس کے لئے اپنے ایک شاگر دعبدالحمید صاحب کا انتخاب کیا جو بر کینافاسو کے باشندے تھے۔عربی، فرانسیسی اور مقامی زبانیں بول سکتے تھے۔اور ابی جان میں سالہا سال مکرم قریشی محمد افضل صاحب کے زیر تربیت رہ چکے تھے۔چنانچہ عبدالحمید صاحب ایک اور فدائی سمیت برکینا فاسو پہنچے اور ملک کے دوسرے بڑے شہر بو بوجلاسو میں ایک مکان کرایہ پر لے کر کام کا آغاز کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء کو اپنے جلسہ سالانہ کی تقریر میں