سلسلہ احمدیہ — Page 662
662 بینن میں جماعت کا آغاز بینن میں جماعت کا تعارف ۱۹۶۷ء میں ہوا۔بینن کے ایک باشندے مکرم سیکر و داؤد صاحب (Sikirou Dauda) ملازمت کے سلسلہ میں نائیجیریا میں مقیم تھے۔انہوں نے ۱۹۶۵ء میں احمدیت قبول کر لی۔ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اپنے ہم وطنوں کو حق کا پیغام پہنچائیں۔چنانچہ مشنری انچارج مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب نے ایک وفد تشکیل دیا جس میں مرکزی مبلغ مکرم محمد بشیر شاد صاحب، دولوکل معلمین اور مکرم سیکر و داؤ د صاحب شامل تھے۔یہ وفد ایک ہفتہ کے دورہ پر بینن پہنچا اور وہاں پر اجتماعی اور انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پہنچایا۔حکومت کے افسران اور مسلمان لیڈروں نے کافی تعاون کیا اور جامع مسجد میں بھی احمدیت کا تعارف کرانے کا موقع دیا۔اس دورہ کے دوران ایک تاجر اور سیکنڈری سکول کے چار طلباء نے بیعت کی۔بیعت کرنے والے تاجر کا نام الحاجی راجی بصیر و ( Radji Basiru) صاحب تھا۔۱۹۶۹ء میں مکرم سیکر و داؤد صاحب نے ملازمت ترک کر دی اور وطن آکر تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔آپ کی تحریک پر مختلف اوقات پر چار نائیجیرین مبلغین نے بین آکر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ان میں سے سب سے پہلے مکرم الحاج محمد توحید شیکونی (Tohid Shekoni) صاحب تھے۔یہ صاحب اگست ۱۹۷۲ء میں بینن پہنچے اور ۱۹۷۳ ء تک بینن میں کام کیا اور آپ نے یہاں پر احمدیوں کی علیحدہ نماز اور جمعہ شروع کرایا۔دوسرے مبلغ برادر بن صالح تھے۔آپ نے ۱۹۷۴ء سے ۱۹۷۵ء تک ایک سال ببینن میں کام کیا۔الحاج الو وا صاحب نے اس ملک میں ۱۹۷۶ء سے ۱۹۷۷ء تک یہاں پر خدمت کی توفیق پائی۔آپ نے باوجود پیرانہ سالی کے اس ملک میں تبلیغ کا کام جاری رکھا۔چوتھے مبلغ مکرم عبد العزیز تاج الدین صاحب تھے آپ ۱۹۷۸ء میں یہاں آئے اور آپ نے چار سال یہاں پر خدمت کی توفیق پائی۔بین میں تبلیغ کا ایک اچھا ذریعہ اہل بین کا نائیجیر یا میں آنا جانا تھا۔جب یہاں کے رہنے والے نایجیر یا آتے تو ان میں سے بعض کا نایجیریا کے احمدیوں سے رابطہ ہو جاتا اور اس طرح تبلیغ کا راستہ کھل جاتا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۹۷۹ء کے جلسہ سالانہ میں دوسرے روز کے خطاب میں بینن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :