سلسلہ احمدیہ — Page 49
49 بھی مول لی اور قرض میں بھی مبتلاء ہو گئے۔۔۔۔میں نظارت اصلاح و ارشاد کو اسطرف متوجہ کرتا ہوں کہ جتنی رسوم اور بدعات ہمارے ملک کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہیں ان کو اکٹھا کیا جائے اور اس کی نگرانی کی جائے کہ ہمارے احمدی بھائی ان تمام رسوم اور بدعات سے بچتے رہیں۔اس وقت میں مختصر ابتا رہا ہوں کہ جو شخص رسوم اور بدعات کو نہیں چھوڑ تا جس طرح اس کا ایمان پختہ نہیں اسی طرح وہ نبی کریم ﷺ کی مدد اور اسلام کی تقویت کے لئے وہ قربانیاں بھی نہیں دے سکتا جن قربانیوں کا اسلام اس سے مطالبہ کرتا ہے۔(۲) پھر یورپ کے دورے پر جانے سے قبل حضور نے ۲۳ جون ۱۹۶۷ء کے خطبہ جمعہ میں ارشادفرمایا:۔توحید کے قیام میں ایک بڑی روک بدعت اور رسم ہے۔یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر بدعت اور ہر بد رسم شرک کی ایک راہ ہے۔اور کوئی شخص جو تو حید خالص پر قائم ہونا چاہے وہ توحید خالص پر قائم نہیں ہوسکتا جب تک وہ تمام بدعتوں اور تمام بد رسوم کو مٹا نہ دے۔ہمارے معاشرہ میں خاص طور پر اور دنیا کے مسلمانوں میں عام طور پر بیسیوں سینکڑوں شاید ہزاروں بدر میں داخل ہو چکی ہیں۔احمدی گھرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام بد رسوم کو جڑ سے اکھیڑ کے اپنے گھروں سے باہر پھینک دیں۔چونکہ بد رسوم کا مسلم معاشرہ میں داخلہ زیادہ تر عورتوں کی راہ سے ہوتا ہے۔اس لئے آج میری پہلی مخاطب میری بہنیں ہی ہیں۔گو عام طور پر تمام احباب جماعت اور افراد جماعت مرد ہوں یا عورتیں وہ میرے مخاطب ہیں۔(۳) اس کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اشتہار پڑھ کر سنایا جو آپ نے ۱۸۸۵ء میں اشتہار بغرض تبلیغ و انذار کے نام سے شائع فرمایا تھا۔اور اس اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بدعات اور بد رسومات کے خلاف تلقین فرمائی تھی۔اس خطبہ کے آخر میں حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے ارشاد فرمایا: پس آج اس مختصر سے خطبہ میں ہر احمدی کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور جماعت احمدیہ میں اس پاکیزگی کو قائم کرنے کے لئے جس پاکیزگی