سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 48 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 48

48 رسومات اور بدعات کے خلاف جہاد کا اعلان اسلام انسان کو تمام بے فائدہ اور لغور سومات سے آزاد کر کے اس کے دل پر عشق خدا کی حکومت قائم کرتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ بد رسومات کی قیود سے آزاد نہیں کر پاتا تو پھر نہ صرف وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم سے کما حقہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا بلکہ طرح طرح کی دنیاوی مشکلات و مصائب میں بھی مبتلاء ہو جاتا ہے۔اور وہ معاشرہ جو رسومات اور بدعات میں مبتلا ہو وہ اسلامی معاشرہ بننے کی طرف قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ان خدشات کی طرف بار بار توجہ دلانی پڑتی ہے۔ورنہ الہی جماعت سے وابستہ افراد بھی معاشرے کے زیر اثر اس رو میں بہہ سکتے ہیں۔حضرت خلیفہ المسح الثالث نے 9 ستمبر ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت کو تو جہ دلائی کہ جوشخص رسوم و بدعات کو نہیں چھوڑتا اس کا ایمان کبھی پختہ نہیں ہو سکتا۔اور نہ ہی وہ تقویت اسلام کے لئے پوری قربانیاں دے سکتا ہے۔آپ نے آیت کریمہ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (۱) کی تفسیر بیان کرنے کے بعد فرمایا: پس بد رسوم اور ایمانِ کامل اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اس وقت مجھے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔اسلام کی اشاعت اور نبی کریم ﷺ کی عظمت اور جلال کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے جس قسم کی قربانی اور جس حد تک قربانی دینا ضروری ہے۔جوشخص رسوم کے بندھنوں میں بندھا ہوا ہے وہ اس حد تک قربانی نہیں دے سکتا۔بعض لوگ ہماری جماعت میں بھی ہیں جو مثلاً اپنی لڑکی کی شادی کرتے وقت خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے سادہ طریق کو چھوڑ کر اپنی خاندانی رسوم کے مطابق اسراف کی راہ اختیار کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں وہ مقروض ہو جاتے ہیں۔پھر مجھے لکھتے ہیں کہ میں بہت مقروض ہو گیا ہوں۔مہربانی کر کے میرے چندہ کی شرح کم کر دی جائے کیونکہ اب میں مجبوراً 1/16 کی بجاۓ1/32 یا 1/50 یا 1/64 ادا کر سکتا ہوں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے انہیں فرمایا تھا کہ تم رسوم کو چھوڑ دو اور بدعات کو ترک کر دو۔مگر انہوں نے رسوم کو نہ چھوڑا خدا تعالیٰ کی ناراضگی