سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 540 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 540

540 کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت نے یہ نشان دکھایا کہ انہی کے سکھلائے ہوئے آدمی نے ان کی سازش کا راز افشا کر دیا تو مقدمہ خارج کرتے ہوئے حج ڈگلس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ان پر مقدمہ کر سکتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں نے اپنا مقدمہ آسمان پر دائر کر دیا ہے۔۱۹۷۴ء کے دوران جماعت احمد یہ پر جو مظالم کئے گئے اور جس طرح ایک خلاف اسلام، خلاف عقل اور خلاف آئین فیصلہ کر کے اپنے زعم میں جماعت احمد یہ پر ضرب لگائی گئی ، اس کا بیان تو گزر چکا ہے۔ہم یہ ذکر کر چکے ہیں کہ ان اقدامات سے بھٹو صاحب اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس وقت بظاہر یہ لگ بھی رہا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو بھی گئے ہیں۔وہ سیاسی طور پر اتنے مضبوط کبھی بھی نہیں تھے جتنا اس وقت نظر آ رہے تھے۔ان کے مخالف بھی جن میں مولوی گروہ کی ایک بڑی تعداد شامل تھی ان کے اس فیصلے کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی۔وہ صرف پاکستان کے مقبول وزیر اعظم ہی نہیں تھے، عالمی سطح پر بھی ان کا طوطی بول رہا تھا۔دوسرے مسلمان ممالک سے بھی واہ واہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔اس پس منظر میں کوئی کہ سکتا تھا کہ اگر جماعت احمدیہ پر کوئی ظلم ہو گیا ہے تو یہ ایک کمزور سی جماعت ہے ان کی کون سنے گا ؟ کون ان کا بدلہ لے گا؟ یہ کمزور گروہ اپنے مقدمے کو کہاں لے کر جائے گا ؟ لیکن ۲۶ دسمبر ۱۹۷۵ء کی صبح کو یہ مقدمہ آسمان پر دائر کر دیا گیا تھا۔بھٹو صاحب جیسے مقبول ، ذہین اور منجھے ہوئے سیاستدان کا اقتدار سے رخصت ہونا اور پھر ایک تکلیف دہ اسیری سے گزرنا اور پھر قتل کے الزام میں ان کو پھانسی کی سزاملنا، یہ سب ایسے واقعات ہیں جن پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اس کا بہت کچھ تجزیہ کیا گیا ہے اور آئندہ بھی کیا جائے گا۔لیکن جب بھی کوئی روحانی آنکھ سے ان واقعات کا تجزیہ کرے گا تو اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۵ء کو کی جانے والی دعا ایک مقدمہ تھی جو رب العالمین کے حضور دائر کیا گیا تھا اور چند سالوں کے بعد دنیا کی آنکھ نے فیصلہ بھی مشاہدہ کر لیا۔اس فیصلہ کرنے والوں کا انجام کیا ہوا اور ملک اور قوم کو اس کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑا اس کا جائزہ ہم مختلف مرحلوں پر لیتے رہیں گے۔لیکن پیپلز پارٹی اور قومی اسمبلی میں شریک دوسری جماعتوں کے لیڈر اس وقت سے اب تک فخریہ بیان بازی کرتے آئے ہیں کہ ہم نے ۱۹۷۴ء میں یہ فیصلہ کر کے بڑا تیر مارا تھا۔گو کہ اب