سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 539 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 539

539 ترنم سے سنانے کے لئے آئے۔خاکسار کو خود بھی یہ لمحے یاد ہیں۔نظم کا شروع ہونا تھا کہ ایک سماں بندھ گیا۔اس نظم کا پہلا شعر تھا : وہ جو گر دی تھی جمی ہوئی وہ جبیں سے ہم نے اتار دی شب غم اگر چہ طویل تھی شب غم بھی ہنس کے گزار دی اس نظم کے کچھ اور اشعار یہ تھے بھلا کیوں بقائے دوام کو نہ ہو ناز ان کے وجود پر وہ جنہوں نے جاں سے عزیز شے بھی ترے حبیب پر واردی وہی ٹھہرے موردِ کفر بھی جنہیں دین جان سے عزیز تھا وہی خار بن کر کھٹک رہے ہیں جنہوں نے فصل بہار دی میرے زخم جس میں نہاں رہے مرا درد جس میں چھپا رہا میرے چارہ گر تیرا شکر یہ وہ قبا بھی تو نے اتار دی جب حضور نے ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۵ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس سے اپنا روح پرور خطاب شروع فرمایا تو آپ نے آنحضرت ﷺ کی مختلف دعائیں پڑھیں اور یہ ارشاد فرمایا کہ دوست آمین کہتے ہوئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو ہمارے حق میں بھی جو آپ کی امت میں سے ہیں قبول کرے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث یہ دعائیں پڑھتے گئے اور جلسہ سالانہ کے حاضرین جو کہ تعداد میں لاکھ سے زائد تھے آمین کہتے رہے۔ان مبارک دعاؤں میں سے جو آخری دعا حضور نے اس جلسہ سالانہ کے موقع پر پڑھی اس کا آخری حصہ یہ تھا۔۔۔وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي وَ أَرِنِي فِيْهِ ثَأْرِى وَ أَقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي اور حضور نے اس کا یہ ترجمہ پڑھا :۔۔۔اور جو مجھ پر ظلم کرے اس کے خلاف تو میری مددفر ما اور جو بدلہ تو اس سے لے وہ مجھے بھی دکھا دے اور اس طرح میری آنکھ کو ٹھنڈک عطا فرما۔“ اور وہاں پر موجود احباب نے آنحضرت ﷺ کی اس دعا پر آمین کہی۔جیسا کہ جماعت کی تاریخ کا معروف واقعہ ہے کہ جب مارٹن کلارک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قتل کا منصوبہ بنانے