سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 541 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 541

541 کچھ آواز میں اس طرح کی بھی سننے میں آرہی ہیں کہ اس کے ساتھ ملک میں تنگ نظری اور مذہبی دہشت گردی کا ایک نیا باب کھل گیا تھا۔جماعت کے مخالف بیان بازی اصول اور سچائی سے کتنا خالی ہوتی ہے۔اس کا اندازہ اس ایک مثال سے ہوسکتا ہے۔اکتوبر ۱۹۷۵ء میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے ریلوے میاں عطاء اللہ صاحب نے یہ بیان داغا کہ ہم نے تو اس فیصلہ کے ذریعہ ۹۰ سالہ مسئلہ حل کر دیا ہے لیکن قادیانی سازش کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ آئین منسوخ ہو جائے اور اس کا طریقہ یہ استعمال کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے باغی ہونے والے کچھ اراکین کو وہ مالی مدد دے رہے ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے خاص طور پر پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور گورنر غلام مصطفے کھر صاحب کا نام لیا کہ وہ قادیانیوں سے رشوت لے رہے ہیں اور صوبائی خود مختاری کا نعرہ لگا رہے ہیں وزیر موصوف نے بڑے اعتماد سے یہ دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس اس بات کے معین ثبوت موجود ہیں جو جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔اس کے ساتھ انہوں نے علم تاریخ پر طبع آزمائی کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ قادیانی تو شروع سے ہی قیام پاکستان کے مخالف تھے۔(۲۴) اس سنسنی خیز انکشاف کو میں سال گزر گئے لیکن اب تک یہ الزام لگانے والوں کو توفیق نہ ہوئی کہ کوئی ثبوت سامنے لاتے۔جس طرح انہیں با وجود وعدہ کرنے کے یہ ہمت نہیں ہوئی کہ اسمبلی کی کارروائی کو منظر عام پر لاتے اس طرح یہ نام نہاد ثبوت بھی سامنے نہ آسکا۔لیکن ان کے جھوٹ کی قلعی خدا نے اس طرح کھول دی کہ غلام مصطفے کھر صاحب کو ، جو ان کے مطابق احمدیوں سے رشوت لے کر ملک کے اور پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں کر رہے تھے، ان کو دوبارہ نہ صرف پیپلز پارٹی میں قبول کیا گیا بلکہ وفاقی وزیر بھی بنادیا گیا۔بحیثیت ادارہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا انجام جماعت احمدیہ کا یہ موقف تھا کہ کسی ملک کی اسمبلی کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کے مذہبی امور کا فیصلہ کرے۔لیکن جماعت احمدیہ کے انتباہ کے باوجود قومی اسمبلی نے اس مسئلہ پر کارروائی کا آغاز کیا اور ممبرانِ اسمبلی نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے بزعم خود مفتی بنتے ہوئے خدا کے