سلسلہ احمدیہ — Page 488
488 وہ پوری ہورہی ہیں کہ نہیں۔وہ علماء بھی جو جماعت کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں، انہوں نے بھی اپنی تحریرات میں یہ شرائط بڑی تفصیل سے بیان کی ہیں۔اور جب ۲۲ اگست کو جہاد کے مسئلہ پر بات شروع ہوئی اور اس موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ احمدیوں کے نزدیک قبال کی شرائط کیا ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ابھی ہم فلسفیانہ بات کر رہے ہیں۔ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ قبال کی شرائط کے بارے میں ہمارے بھائیوں کا کیا فتویٰ ہے۔پھر آپ نے فرمایا میں مثال کے طور اہلِ حدیث کا فتویٰ بیان کرتا ہوں۔اور پھر آپ نے اہلِ حدیث کے مشہور عالم نذیرحسین صاحب دہلوی کا فتویٰ سنایا جو انہوں نے انگریز کے دور حکومت میں ہی دیا تھا۔ہم فتاویٰ نذیری سے ہی یہ فتویٰ نقل کر دیتے ہیں۔”۔۔۔۔۔مگر جہاد کی کئی شرطیں ہیں جب تک وہ نہ پائی جائیں جہاد نہ ہوگا۔اول یہ کہ مسلمانوں کا کوئی امام وقت وسردار ہو۔دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں ایک نبی کا انبیاء سابقین سے قصہ بیان فرمایا ہے کہ ان کی امت نے کہا کہ ہمارا کوئی سردار اور امام وقت ہو تو ہم جہاد کریں۔الم ترالی الملا من بنى اسرائيل من بعد موسى اذ قالوا لنبى لهم ابعث لنا ملكا نقاتل في سبيل الله۔الآیة۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد بغیر امام کے نہیں کیونکہ اگر بغیر امام کے جہاد ہوتا تو ان کو یہ کہنے کی حاجت نہ ہوتى كما لا یخفی اور شرائع من قبلنا جب تک اس کی ممانعت ہماری شرع میں نہ ہو، حجت ہے۔کما لا يخفى على المعاصر بالاصول۔اور حدیث میں آیا ہے کہ امام ڈھال ہے، اس کے پیچھے ہو کر لڑنا چاہئے اور اس کے ذریعہ سے بچنا چاہئے۔عن ابی صلى الله هريرة قال قال رسول الله علم انما الامام جنة يقاتل من ورائه و يتقى به الحدیث رواہ البخاری و مسلم۔اس سے صراحتا یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جہاد امام کے پیچھے ہو کر کرنا چاہئے بغیر امام کے نہیں۔دوسری شرط کہ اسباب لڑائی کا مثل ہتھیار وغیرہ کے مہیا ہو جس سے کفار کا مقابلہ کیا جاوے۔فرمایا اللہ تعالى نے واعدوا لهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخيل ترهبون به عدو الله و عدوكم واخرين من دونهم الاية ( ترجمہ ) اور سامان