سلسلہ احمدیہ — Page 489
489 تیار کرو ان کی لڑائی کے لئے جو کچھ ہو سکے تم سے، ہتھیار اور گھوڑے پالنے سے اس سے ڈراؤ اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمنوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی قوت کے معنی ہتھیار اور سامانِ لڑائی کے ہیں۔اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے يا ايها الذين امنوا خذوا حذركم فانفروا ثباتا او انفروا جميعا (ترجمہ) اے ایمان والو! اپنا بچاؤ پکڑو، پھر کوچ کرو جدا جدا فوج یا سب اکٹھے۔۔۔۔۔۔یعنی حذر سے مراد لڑائی ہے۔مثلاً ہتھیار وغیرہ کا مہیا ہونا ضروری ہے اور حدیثوں سے بھی اس کی تاکید معلوم ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ بغیر ہتھیار کے کیا کرے گا۔تیسری شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قلعہ یا ملک جائے امن ہو کہ ان کا ماویٰ و ملجا ہو چنانچہ قرآن کے لفظ من قوة کی تفسیر عکرمہ نے قلعہ کی ہے۔قــال عــکــرمـة القُوَّةُ الْحُصُونُ انتهى ما فى المعالم التنزيل للبغوی اور حضرت ﷺ نے جب تک مدینہ میں ہجرت نہ کی اور مدینہ جائے پناہ نہ ہوا جہاد فرض نہ ہوا، یہ صراحہ دلالت کرتا ہے کہ جائے امن ہونا بہت ضروری ہے۔چوتھی شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کا لشکر اتنا ہو کہ کفار کے مقابلہ میں مقابلہ کر سکتا ہو یعنی کفار کے لشکر سے آدھے سے کم نہ ہو۔۔۔۔(فتاوی نذیریہ جلد سوم ص ۲۸۲۔۲۸۴) اب اس فتویٰ سے ظاہر ہے کہ جہاد امامِ وقت کے حکم اور اس کی اتباع کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔اور اب اگر امام الزمان قتال سے روک رہا ہو تو پھر اس کو جہاد نہیں قرار دیا جا سکتا۔دراصل یہ اعتراض تو احمدیوں پر ہوہی نہیں سکتا۔اس ضمن میں ان کے عقائد تو بہت واضح ہیں۔اگر الزام آتا ہے تو ان فرقوں پر آتا ہے جن کے عقائد تو یہ تھے کہ قتال فرض ہے اور سو سال انگریز نے ان پر حکومت کی اور وہ محض ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے۔بلکہ لاکھوں کی تعداد میں انگریز کی فوج میں شامل ہو کر ان کی طرف سے لڑتے رہے بلکہ اس مقصد کے لئے مسلمانوں پر بھی گولیاں چلاتے رہے اور جب انگریز یہاں سے رخصت ہو گیا تو انہیں یاد آیا کہ انگریز سے لڑنا بہت ضروری تھا اور احمدیوں پر اعتراض شروع کر دیا کہ وہ جہاد کے قائل نہیں۔اب جماعت اسلامی کی مثال لے لیں۔ان کی طرف سے یہ اعتراض بارہا کیا گیا کہ احمدی جہاد