سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 487 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 487

487 رہے تھے وہاں پر مشرکین کی حکومت تھی۔پھر قرآنِ کریم سے ہی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ جہاد مال سے بھی کیا جاتا ہے۔جیسا کہ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَجَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ۔۔۔(الانفال: ۷۳) یعنی انہوں نے اموال اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔اس آیت کریمہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ جہاد مال سے بھی کیا جاتا ہے۔پھر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ رسول کریم ﷺ کے اس ضمن میں کیا ارشادات ہیں۔آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے ماتحت مجاہد کسے کہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ» یعنی مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔(جامع ترمذی ابواب فضائل الجھا د) پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔جَاهِدُوا الْمُشْرِكِيْنَ بِاَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَ الْسِنَتِكُمْ یعنی مشرکین سے اپنے اموال سے اپنی جانوں سے اور اپنی زبانوں سے جہاد کرو۔پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں:۔سنن ابی داود باب كراهية ترك الغزو) إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانِ جَائِرٍ “ یعنی ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد کی ایک سب سے عظیم مقسم ہے (جامع ترمذی باب افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر) ان ارشادات نبویہ سے یہ بات ظاہر ہے کہ جہاد صرف جنگ کرنے کو یا تلوار اُٹھانے کو نہیں کہتے۔اس کے بہت وسیع معانی ہیں۔اور ان وسیع معانی کو محض قتال تک محدود کر دینا محض ایک نادانی ہے بلکہ رسول کریم ﷺ نے قتال کو جہاد صغیر قرار دیا ہے۔چنانچہ ایک غزوہ سے واپسی پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا " رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ “ یعنی ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آرہے ہیں۔(رد المختار على الدر المختار ، كتاب الجهاد ) اور جہاں تک قتال کا تعلق ہے یہ دیکھنا چاہئے کہ شریعت نے اس کے لئے جو شرائط مقرر کی ہیں