سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 336 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 336

336 جو بعد میں جرمنی جا کر نکلوائی گئی۔اسی طرح مختلف لوگوں کو جو گولیاں لگیں وہ نکال دی گئیں اور علاج کر دیئے گئے۔خاکسار کے نانا کولا ہو وغیرہ بھی لے جایا گیا مگران کے سرے گولی کا نکلنا نامکن رہا۔جس کی وجہ سے وہ تین ماہ بعد فضل عمر ہسپتال میں وفات پا کر شہدائے احمدیت میں داخل ہو گئے۔بعد میں چند روز کے بعد ہمیں سرگودھا ملزموں کی شناخت کے لئے اور وقوعہ کی رپورٹ کے لئے طلب کیا گیا۔شناخت پریڈ میں وہ تمام غنڈے موجود تھے جو ہمارے قافلوں پر زیادتی کرتے تھے اور ان میں سے ایک دورہ بھی تھے جو فائرنگ میں شامل تھے اور خاکسار انہیں پہچانتا تھا۔چنانچہ خاکسار نے مجسٹریٹ کو ان کی نشاندہی بھی کی۔مگر جس طرح ایک پلان تھا ہماری شناخت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور نتیجہ یہ نکالا گیا کہ کوئی ملزم بھی پہچانا نہیں گیا۔اسی طرح وقوعہ کی تفصیلات کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔اس کے بعد پھر دو دفعہ ہمیں حاضری پر عدالت میں بلایا گیا۔مگر معلوم ہوا کہ فیصلہ وہی ہوتارہا جو صاحب اقتدار لوگ چاہتے تھے۔“ اس واقعہ میں زخمی ہونے والے دیگر دوستوں کے نام یہ ہیں: ۱۔مکرم لطف الرحمن صاحب ( ٹھیکیدار پہاڑی ) دار النصر ربوہ مکرم حاکم علی صاحب فیکٹری اسیر یار بوہ مکرم میاں عبدالسلام صاحب زرگر ربوہ ۴۔مکرم ڈاکٹر عبدالغفور صاحب سرگودھا مکرم ملک فتح محمد صاحب ریلوے روڈ ر بوہ مکرم ہدایت اللہ چٹھہ صاحب ربوہ ۷ ارجولائی کو کارروائی شروع کرنے کی اطلاع اور صدرانجمن احمد سیہ کا جواب حکومت کی طرف سے جس عجیب رویہ کا اظہار کیا جارہا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۱۶ جولائی ۱۹۷۴ء کی شام کوقومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب کا فون ربوہ آیا کہ جماعت کا وفد، امام جماعت احمدیہ کی سربراہی میں اسلام آباد آجائے۔کل سے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کارروائی کا