سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 337 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 337

337 آغاز کرے گی۔یہ بات پیش نظر رہے کہ اس وقت ربوہ سے اسلام آباد جانے میں تقریباً چھ گھنٹے لگتے تھے اور اس وقت راستے میں امن و امان کی صورتِ حال نہایت مخدوش تھی۔راستے میں سرگودھا تھا جہاں ایک ہی روز قبل احمدیوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔اور اس امر کی تحریری اطلاع کوئی نہیں دی گئی تھی صرف زبانی اطلاع دی گئی تھی۔ان حالات میں صدر انجمن احمد یہ یہ مناسب نہیں سمجھتی تھی کہ حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں درخواست کرے کہ وہ اسلام آباد تشریف لے جائیں۔چنانچہ فون پر سیکریٹری صاحب کو اس بات سے مطلع کر دیا گیا اور سٹیرنگ کمیٹی کے سر براہ کو خط لکھ کر اطلاع دی گئی کہ ان حالات میں صدر انجمن احمدیہ حضرت خلیفتہ امیج کو یہ مشورہ دینے کی ذمہ داری نہیں لے سکتی کہ وہ آج ہی اسلام آباد روانہ ہو جائیں۔اور ان سے یہ مطالبہ کیا کہ با قاعدہ تحریری نوٹس بھجوایا جائے۔راستے کے لئے حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ملٹری اسکورٹ مہیا کرے۔اس کارروائی کے آغاز کی معین تاریخ کو خفیہ رکھا جائے۔ہمارے پندرہ مسلح محافظ ساتھ ہوں گے۔اور آخر میں لکھا کہ ہم آپ کے جواب کے منتظر رہیں گے۔اس کا جواب ۱۷ جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری اسلم اسد اللہ خان صاحب کی طرف سے یہ موصول ہوا کہ نئی تاریخ ۲۲ / جولائی رکھی گئی ہے اور اسے خفیہ رکھا جائے گا۔اسکورٹ مہیا کیا جائے گا لیکن پندرہ مسلح محافظ ساتھ رکھنے کے بارے میں اجازت اس لئے نہیں دی جاسکتی کہ راستے میں مختلف اضلاع کے مجسٹریٹ نے اپنے اضلاع میں اسلحہ لے کر جانے پر پابندی لگائی ہوگی اور قومی اسمبلی میں اسلحہ لے کر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اور حکومت کا یہ ارادہ کہ ۱۷ جولائی ۱۹۷۴ء کو کارروائی شروع کر دی جائے اس لئے بھی عجیب تھا کہ ۱۸ جولائی کو صدائی ٹریبونل کے سامنے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا بیان قلمبند کیا گیا۔یہ کارروائی بند کمرے میں ہوئی لیکن بعد میں اخبارات کو اس بیان کے مندرجات چھاپنے کی اجازت دے دی گئی۔حضور کے بیان کے علاوہ کئی سرکاری افسران کے بیانات بھی بند کمرے میں ہوئے تھے۔۲۰ جولائی ۱۹۷۴ء جسٹس صدانی نے ربوہ کا دورہ کیا اور ریلوے سٹیشن کا معائنہ کرنے کے علاوہ جماعتی دفاتر اور بہشتی مقبرہ بھی گئے۔(مشرق ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء ص ۲۱،۱ جولائی ۱۹۷۴ ص۱)