سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 231 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 231

231 صلى الله کے بتائے ہوئے راستے پر قائم رہے۔اور اب اس نے عظیم الشان منصوبہ کے ساتھ یہ بھی نظر آرہا تھا کہ آنے والے وقت میں نئے لوگ جوق در جوق حقیقی اسلام کو قبول کر کے احمدیت میں داخل ہوں گے اس لئے حضور نے یہ محسوس فرمایا کہ بعض مرکز گریز رجحانات کی اصلاح کی ضرورت ہے۔” اس وقت بحیثیت مجموعی دنیا کی جو حالت نظر آتی ہے اس سے ایک اور مسئلہ ہمارے لئے سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کچھ ملک مدت ہوگئی آزاد ہو گئے اور انہوں نے دنیا میں طاقت حاصل کر لی اس وقت وہ اپنی حفاظت کی خاطر ( دنیا پر احسان کی خاطر نہیں اور نہ دنیا سے پیار کے نتیجہ میں ) اور خود اپنے مفاد کے لئے بین الاقوامی ذہنیت یعنی انٹرنیشلزم کا پر چار کرتے ہیں۔کچھ ملک جو نئے نئے آزاد ہوئے ہیں وہ چونکہ نئے نئے آزاد ہوئے ہیں ان کے نزدیک انٹر نیشلزم سے مراد کالونیلزم بن جاتا ہے البتہ کالونیز کی شکل مختلف ہوتی ہے۔ان کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ انٹرنیشلزم کا مطلب یہ ہے کہ گویا بہت سے ممالک کو اکٹھا کر کے ان کی Exploitation یعنی ان کا استحصال کیا جائے یا ان کی دولت سے ان کو محروم کرنے کی سعی ناپسندیدہ کی جائے۔اب مثلاً جب میں افریقہ کے دورہ پر گیا تو غانا میں مجھے پتا لگا کہ ایک دو آدمی ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ A Ghanian for Ghana غانا کو جو عالم ہے اور جسے جماعت احمدیہ نے تیار کیا ہے ہمارے ملک میں اس کو انچارج ہونا چاہئے۔مجھے پتہ لگا تو میں نے ان کو سمجھایا ان کو میری بات سمجھ آگئی اور ان میں سے بعض رو پڑے۔میں نے کہا کہ تم کیا باتیں کرتے ہو تم کہتے ہو AGhanian for Ghana اور میں یہ کہتا ہوں A Ghanian for England چونکہ انگلستان نے تم پر ظلم کیا تھا اس لئے میں تو انگلستان میں تمہارے غانین کو مبلغ بنا کر بھیجوں گا۔اسلام اور احمدیت تو اس نہج پر سوچتی اور منصوبے بنارہی ہے اور تم اس راہ پر سوچ رہے ہو جو کہ غلط ہے۔پھر میں نے عبدالوہاب بن آدم کو جو غانا کا بڑا اخلص نو جوان ہے اور جامعہ احمدیہ کا فارغ التحصیل شاہد ہے حسب وعدہ انگلستان کا مبلغ بنا کر بھیج دیا۔پھر میری یہ خواہش تھی کہ ہمارا غانا کا کوئی احمدی ہیڈ ماسٹر ہو تو اس کو ربوہ کے سکول کا ہیڈ ماسٹر لگا دوں کیونکہ جب تک آپ عملاً