سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 232 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 232

232 اس پیار اور اس بین الاقوامی ذہنیت کا مظاہرہ نہیں کریں گے محض کوئی زبانی دعوئی ان کی تسلی کا موجب نہیں بن سکتا۔بہر حال ہم نے اس Mischief اور شرارت کے اس تصور کو دور کرنا ہے کہ جی ہم کیوں مرکز کے ماتحت رہیں۔یہ ذہنیت اب بھی پیدا ہوسکتی ہے۔پہلے زمانہ میں جب کہ خلافت ختم ہوگئی تھی لیکن بادشاہت اپنے آپ کو خلافت کہتی تھی تو اسی طرح چین آزاد ہو گیا۔مصر آزاد ہو گیا۔نئی حکومتیں بن گئیں اور مسلمان بٹ گئے اور ان کا باہمی اتحاد ختم ہو گیا۔یہ تو ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہیں ہونے دینا۔انشاء اللہ تعالیٰ اور یہ بات تبھی ہو سکتی ہے کہ میں آپ اور ہم سب دوسرے ملکوں کے رہنے والوں کو اپنے گلوں سے لگا ئیں اور ان سے اتنا پیار کریں کہ وہ بھول جائیں کہ ہم دو ملکوں کے رہنے والے ہیں۔پس نیشلزم اور انٹرنیشلزم میں ایسی تفریق کرنا کہ ہمارے کام میں روک بھی نہ بنے اور ان کے ذہنوں کی تسلی بھی ہو جائے یہ ضروری ہے۔یہاں جلسہ سالانہ پر جو افریقی وفود آئے تھے ان کو میں نے بڑا سمجھایا۔میں نے انہیں کہا کہ جہاں تک تمہارے دنیوی معاملات کا تعلق ہے مثلاً غانا کے سیرالیون کے یا نائیجیریا کے تم بیشک اپنے اپنے outlook میں نیشلسٹ بنے رہو۔زمانہ آپ ہی تمہیں ایک حد تک انٹر نیشنل بنالے گا۔لیکن جہاں تک مذہب کا اور احمدیت کا اور اسلام کا تعلق ہے تمہیں اپنے اندر بین الاقوامی ذہنیت پیدا کرنی پڑے گی کیونکہ خلافت سے کٹ کر تمہاری حالت ایک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہو جائے گی۔میں نے اب اپنے مبلغین کو بھی سمجھانا شروع کیا ہے کہ اس نہج پر کام کرو۔مقامی باشندوں کو سکولوں اور کالجوں اور ہسپتالوں کے انتظام میں شامل کرو۔اصل میں تو ہمارے مبلغ کی تربیت ایسی ہونی چاہئے کہ وہ اپنی مرضی کا کام کروائے اور ان کے ذہنوں میں یہ احساس پیدا کرے کہ جو وہ چاہتے ہیں وہی ہوگا تا کہ کوئی خرابی پیدا نہ ہو اور یہ کام آسانی سے ہوسکتا ہے اور ہم ساری عمر ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن جہاں تک مذہبی عقائد کا سوال ہے ان کو بہر حال خلیفہ وقت کے فیصلوں اور جماعتی نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔تو میں نے ان لوگوں سے کہا کہ ٹھیک ہے کہ تم اپنے