سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 79 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 79

79 طبیعت میں اداسی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر خوشی بھی ہے کہ وہ محض اپنی رحمت سے یہ توفیق عطا کر رہا ہے کہ ان اقوام کے پاس جا کر جو صدیوں سے مظلوم رہی ہیں اور جو صدیوں سے حضرت نبی اکرم ﷺ کے ایک عظیم روحانی فرزند مہدی معہود کی انتظار میں رہی ہیں اور جن میں سے استثنائی افراد کے علاوہ کسی کو بھی حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔پھر ان کے دلوں میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ آپ کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ ان تک پہنچے۔اور اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے نام پر ان کو ہدایت کی طرف اور ان کو رشد کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بلائے اور وہ خـلـيـفـة مـن خـلـفــائـہ کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں اور ان کی طبیعتیں ایک حد تک سیری محسوس کریں۔چنانچہ صدیوں کے انتظار کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاہا تو انہیں یہ موقع نصیب ہوگا۔دعا ہے کہ یہاں میری موجودگی میں بھی آپ ہمیشہ ثبات قدم پر مضبوطی سے قائم رہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے دامن کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور میری غیر حاضری میں بھی اللہ تعالیٰ آپ کے لئے صدق و ثبات اور وفا کے سامان اور صدق و ثبات اور وفا اور محبت کی فضا پیدا کرتا رہے۔اور ہمارا ان ممالک کی طرف جانا ان کے ثبات قدم کا موجب بنے اور جذ بہ وفا میں شدت کا موجب ثابت ہو اور وہ قومیں محبت الہی میں اور بھی آگے بڑھیں۔اور وہ جو ابھی تک اندھیروں میں بھٹکتے پھر رہے ہیں انہیں بھی روشنی کی وہ کرن نظر آ جائے جو اسلام کی شاہراہ کو منور کر رہی ہے اور بنی نوع انسان کو اس طرف بلا رہی ہے۔(۱) اس کے بعد حضور نے ارشاد فر مایا کہ محبت اور پیار سے اپنے دن گزار ہیں اور صدقہ اور دعاؤں کے ساتھ میری مدد کریں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ۴ را پریل کو فجر کے بعد ر بوہ سے روانہ ہونا تھا۔ایک روز پہلے مغرب کی نماز کے وقت اہل ربوہ ہزاروں کی تعداد میں مسجد مبارک میں جمع ہو گئے۔ان کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی احباب حضور کو الوداع کہنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔نماز کے بعد حضور محراب میں ایک کرسی پر رونق افروز ہوئے۔تلاوت کے بعد کچھ دوستوں نے نظمیں سنائیں اور مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب نے حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی رقم فرمودہ تحریک دعا